Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
55 - 132
ارشاد ہوئی اگر مسلمان اس پر عمل کریں تمام قصوں سے نجات پائیں دنیا وآخرت کی بھلائی ہاتھ آئے۔ وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں سے بالکل میل جول چھوڑ دیں، سلام کلام ترک کر دیں، ان کے پاس اُٹھنا بیٹھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا، ان کے یہاں شادی بیاہ کرنا، غرض ہر قسم کے تعلقات ان سے قطع کر دیں گو یا سمجھیں کہ وہ اب رہا ہی نہیں، وَاﷲُ الْمُوَفِّق۔
سوال:عورت یا نابالغ سمجھداربچہ مُرتد ہو جائیں تو انکی سزا کیا ہے؟
جواب: عورت یا نابالغ سمجھ وال بچہ مُرتد ہوجائے تو قتل نہ کرینگے بلکہ قید کرینگےیہاں تک کہ توبہ کرے اور مسلمان ہو جائے۔ 
سوال:کیا مُرتد کی اِرتدا د سےتوبہ قبول ہے ؟اگر ہاں تو کیا ہر مُرتد کا یہی حکم ہے؟
جواب: مُرتد اگر اِرتداد سے توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہے مگر بعض مُرتدین مثلاً کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا کہ اُس کی توبہ مقبول نہیں۔ توبہ قبول کرنے سے مراد یہ ہے کہ توبہ کرنے کے بعد بادشاہ ِاسلام اسے قتل نہ کریگا۔
سوال: مُرتد اِرتداد سے مُنکِر ہو تو اسکی سزا کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: مُرتد اگر اپنے اِرتداد سے انکار کرے تو یہ انکار بمنزلہ توبہ ہے اگرچہ گواہانِ عادل سے اسکا اِرتداد ثابت ہو یعنی اس صورت میں یہ قرار دیاجائے گا کہ اِرتداد تو کیا مگر اب توبہ کرلی لہٰذا قتل نہ کیا جائیگا اور اِرتداد کے باقی احکام جاری ہونگے مثلاًاس کی عورت نکاح سے نکل جائے گی، جو کچھ اعمال کیے تھے سب اکارت ہو جائیں گے، حج کی استطاعت رکھتا ہے تو اب پھر حج فرض ہے کہ پہلا حج جو کر چکا تھا بیکار ہوگیا۔ اگر اس قول سے انکار نہیں کرتا مگر لایعنی تقریروں سے اس اَمر کو صحیح بتاتا ہے جیسا زمانۂ حال کے مُرتدین کا شیوہ ہے تو یہ نہ انکار ہے نہ تو بہ مثلاً قادیانی کہ نبوّت کا دعویٰ کرتا ہے اور خاتمُ النّبیین کے غلط معنے بیان کر