Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
54 - 132
(۱)عقل۔ ناسمجھ بچہ اور پاگل سے ایسی بات نکلی تو حکمِ کفر نہیں۔(۲)ہوش۔ اگر نشہ میں بکا تو کافر نہ ہوا۔(۳) اختیار۔ مجبوری اور اکراہ کی صورت میں حکمِ کفر نہیں۔ مجبوری کے یہ معنی ہیں کہ جان جانے یاعُضو کٹنے یا ضربِ شدید کا صحیح اندیشہ ہو اس صورت میں صرف زبان سے اس کلمہ کے کہنے کی اجازت ہے بشرطیکہ دل میں وہی اطمینانِ ایمانی ہو(اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ) (پ١٤،النحل:١٠٦)
سوال:مُرتد کی سزا کیا ہے؟
جواب: جو شخص معاذاﷲ مُرتد ہو گیا تو مستحب ہے کہ حاکمِ اسلام اس پر اسلام پیش کرےاور اگر وہ کچھ شبہہ بیان کرے تو اس کا جواب دے اور اگر مہلت مانگے تو تین دن قید میں رکھے اور ہر روز اسلام کی تلقین کرے۔یوہیں اگر اس نے مہلت نہ مانگی مگر امید ہے کہ اسلام قبول کرلے گا جب بھی تین دن قید میں رکھا جائے پھر اگر مسلمان ہوجائے فبہا ورنہ قتل کر دیا جائے بغیر اسلام پیش کیے اسے قتل کر ڈالنا مکر وہ ہے۔ مرتد کو قید کرنا اور اسلام نہ قبول کرنے پر قتل کر ڈالنا بادشاہِ اسلام کا کام ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ ایساشخص اگر زندہ رہا اور اس سے تَعَرُّض نہ کیا گیا تو ملک میں طرح طرح کے فساد پیدا ہونگے اور فتنہ کا سلسلہ روز بروز ترقی پذیر ہوگا جس کی وجہ سے امنِ عامہ میں خلل پڑیگا لہٰذا ایسے شخص کو ختم کر دینا ہی مقتضائے حکمت تھا۔ اب چونکہ حکومتِ اسلام ہندوستان میں باقی نہیں کوئی روک تھام کرنے والا باقی نہ رہا ہر شخص جو چاہتا ہے بکتا ہے اور آئے دن مسلمانوں میں فساد پیدا ہوتا ہے نئے نئے مذہب پیدا ہوتے رہتے ہیں ایک خاندان بلکہ بعض جگہ ایک گھر میں کئی مذہب ہیں اور بات بات پر جھگڑے لڑائی ہیں ان تمام خرابیوں کا باعث یہی نیا مذہب ہے ایسی صورت میں سب سے بہتر ترکیب وہ ہے جو ایسے وقت کے لیے قرآن وحدیث میں