بچے لیکن گناہ کرے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:وہ مسلمان تو ہے لیکن فاسق(گنہگار و نافرمان ) ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
کفریہ کلمات کا بیان اور مُرتد کے احکام
اﷲ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے:
وَمَنۡ یَّرْتَدِدْ مِنۡکُمْ عَنۡ دِیۡنِہٖ فَیَمُتْ وَہُوَکَافِرٌ فَاُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالۡاٰخِرَۃِۚ وَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ﴿۲۱۷﴾(پ۲، البقرۃ، ۲۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھرے پھر کافر ہوکر مرے تو ان لوگوں کا کیا اکارت گیا دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔
کفر و شِرک سے بدتر کوئی گناہ نہیں اور وہ بھی اِرتداد کہ یہ کفرِ اَصلی سے بھی باعتبارِ احکام سخت ترہے جیسا کہ اس کے احکام سے معلوم ہوگا۔ مسلمان کو چاہیے کہ اس سے پناہ مانگتا رہے کہ شیطان ہر وقت ایمان کی گھات میں ہے اور حدیث میں فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح تیرتا ہے۔(1)آدمی کو کبھی اپنے اوپر یا اپنی طاعت واعمال پر بھروسا نہ چاہیے ہر وقت خدا پر اعتماد کرے اور اسی سے بَقائے ایمان کی دعا چاہے کہ اسی کے ہاتھ میں قلب ہے اور قلب کو قلب اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ لَوٹ پَوٹ ہوتا رہتا ہے، ایمان پر ثابت رہنا اسی کی توفیق سے ہے جس کے دستِ قدرت میں قلب ہے اور حدیث
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترمذی،کتاب الرضاع،باب ماجاء کراھیة . ..الخ،۲/۳۹۱،حدیث۱۱۷۵