سے انکار ہے دل میں انکار نہیں کہ بلا اِکراہِ شرعی مسلمان کلمۂ کفر صادر نہیں کر سکتا، وہی شخص ایسی بات منہ پر لائے گا جس کے دل میں اتنی ہی وُقعت ہے کہ جب چاہا اِنکار کر دیا اور ایمان تو ایسی تصدیق ہے جس کے خلاف کی اصلاً گنجائش نہیں۔
سوال:اگر کوئی جان سے مارڈالنے کی دھمکی دے اور وہ اس ڈر کی وجہ سے زبان سے کلمۂ کفر بک دے، دل ایمان پر مطمئن ہو تو کیا وہ مومن ہی رہے گا؟
جواب:ہاں!اگرواقعی ایسی حالت ہے کہ جان کا خوف ہے اور تصدیقِ قلبی میں کچھ خلل یعنی خرابی نہ آئے یعنی ایمان پر دل مطمئن رہے تو ایسا شخص مومن ہوگا اگرچہ اس کو مجبوری کی حالت میں زبان سے کلمۂ کفر کہنا بھی پڑجائے مگر بہتر یہی ہے کہ ایسی حالت میں بھی کلمۂ کفر زبان پر نہ لائے۔
سوال:کیا کبیرہ گنا ہ کرنے سے بندہ ایمان سے خارج ہوجاتاہے؟
جواب:گناہِ کبیرہ کرنے سے آدمی کافر اور ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔
سوال:کبیرہ گناہ کیا ہوتاہے؟
جواب: وہ گناہ جس کے بارے میں قرآن وحدیث میں حَد یا وعید بیان کی گئی ہو۔یاد رہے کہ صغیرہ گناہ بھی اِصرار ( یعنی بغیر توبہ کے بار بار کرنے )سے کبیرہ ہوجاتا ہے یونہی ہلکا جان کر کرنے سے بھی کبیرہ ہوجاتا ہے۔
سوال:وہ کونسے گناہ ہیں جو کبھی نہ بخشے جائیں گے؟
جواب:شرک و کفر کبھی نہ بخشے جائیں گے اور مشرک و کافر جس کی موت کفر و شرک پر ہو اس کی ہر گز مغفرت نہ ہوگی۔ ان کے سوا اللّٰہ تعالیٰ جس گناہ کو چاہے گا اپنے محبوب بندوں کی شفاعت سے یا محض اپنے کرم سے بخش دے گا۔