Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
49 - 132
ایمان کا بیان
سوال:ایمان کسے کہتے ہیں؟
جواب:وہ تمام اُمور جو حضور نبی کریمصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے لائے اور جن کے بارے یقینی  طور پرمعلوم ہے کہ یہ دینِ مصطفےٰصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم سے ہیں ان سب کی سچے دل سے قطعی تصدیق کرنا ’’ایمان‘‘ کہلاتاہے جیسے اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت ، تمام انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی نبوّت، حضور نبی کریم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کاخاتَمُ النّبیین ہونا یعنی یہ اعتقاد کہ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمسب میں آخری نبی ہیں، حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے بعد کسی کو نبوّت نہیں مل سکتی ، اسی طرح حشر نشر، جنّت دوزخ وغیرہ کا اعتقادیعنی یقین رکھنا۔
سوال:کیا دل سے تصدیق کے ساتھ زبان سے اقرار کرنا بھی ضروری ہے؟
جواب:مسلمان ہونے کے لئے دل کی تصدیق کے ساتھ زبان سے اقرار کرنا بھی شرط ہے تاکہ دوسرے لوگ اسے مسلمان سمجھیں اور مسلمان اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کریں۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر تصدیق کے بعد اظہار کا موقع نہ ملا تو عند اللّٰہ مومن ہے اور اگر موقع ملا اور اس سے مطالبہ کیا گیا اور اقرار نہ کیا تو کافر ہے اور اگر مطالبہ نہ کیا گیا تو احکامِ دنیا میں کافر سمجھا جائے گا نہ اس کے جنازے کی نماز پڑھیں گے نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کریں گے مگر عند اللّٰہ مومن ہے اگر کوئی اَمر خلافِ اسلام ظاہر نہ کیا ہو۔
تنبیہ: مسلمان ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ زبان سے کسی ایسی چیز کا انکار نہ کرے جو ضروریاتِ دین سے ہے، اگرچہ باقی باتوں کا اقرار کرتا ہو، اگرچہ وہ یہ کہے کہ صرف زبان