لئے ہمیشہ عذاب ہے موت ذبح کر دی گئی اب ہمیشہ کی زندگی ہے ،ہلاک و فنا نہیں۔ اس وقت اہلِ جنّت کے فرح و سُرورکی انتہانہ ہوگی اسی طرح دوزخیوں کے رَنج و غم کی۔
سوال:حضرت مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَام کون ہیں؟
جواب:یہ داروغۂ جہنم یعنی دوزخ کے نگران ہیں۔
سوال:جہنم تو عذاب کی جگہ ہے پھر اس میں فرشتے کیسے آسکتے ہیں؟
جواب:فرشتے اس میں عذا ب سہنے کے لئے نہیں بلکہ عذاب دینے کے لئے ہوں گے جیسے جیل میں پولیس کے سپاہی اور جیلر ہوتے ہیں۔
سوال:جہنم میں آگ کی گرمی کا عذا ب سنا ہے تو کیا سردی کا بھی عذاب ہوگا؟
جواب: جی ہاں،جہاں آگ سے قریب ہونے کی وجہ سے گرمی کا عذاب ہوگا وہیں اس سے دوری کی وجہ سے سردی کا عذاب ہوگا۔
سوال:جہنمی کے لیے سب سے ہلکا عذا ب کیا ہوگا؟
جواب:جہنم میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہوگا اس کو آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھولے گا اور وہ سمجھے گا کہ سب سے زیا دہ اسی کو عذاب ہورہا ہے حالانکہ اسے سب سے کم عذاب ہورہا ہوگا۔
سوال: اگر کوئی حساب اور جنّت ودوزخ کا انکار کرے ،اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟
جواب:حساب اور جنّت و دوزخ حق ہیں ،ان کا انکار کرنے والا کافرہے۔(1)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بہار شریعت،حصہ۱،۱/۱۵۰