Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
46 - 132
کرے گی، پینے کو انہیں گرم پانی ملے گا اور اس قدر گرم کہ جس سے منہ پھٹ جائے اور اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچے اور نیچے کا پھٹ کر لٹک آئے، ان کا ٹھکانہ جَحِیْم (دوزخ کاایک طبقہ)ہے ،ملائکہ ان کو ماریں گے۔وہ خواہش کریں گے  کہ کسی طرح وہ ہلاک ہو جائیں اور ان کی رہائی کی کوئی صورت نہ ہوگی،  قدم پیشانیوں سے ملا کر باندھ دئیے جائیں گے ، گناہوں کی سیاہی سے منہ کالے ہوں گے، جہنم کے اطراف و جوانب شور مچاتے اور فریاد کرتے ہوں گے کہ اے مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام!عذاب کا وعدہ ہم پر پورا ہو چکا ہے۔اے مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام!لوہے کے بوجھ نے ہمیں چکنا چور کر دیا ۔ اے مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام!ہمارے بدنوں کی کھالیں جَل گئیں ۔اے مالک عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام!ہم کواس دوزخ سے نکال۔ہم پھر ایسی نافرمانی نہ کریں گے۔ فرشتے کہیں گے دور ہو !اب امن نہیں اور اس ذِلّت کے گھر سے رہائی نہ ملے گی اسی میں ذلیل پڑے رہو اور ہم سے بات نہ کرو۔ اس وقت ان کی اُمّیدیں ٹوٹ جائیں گی اور دنیا میں جو کچھ سرکشی وہ کر چکے ہیں اس پر افسوس کریں گے لیکن اس وقت عُذر و ندامت کچھ کام نہ آئے گا، افسوس کچھ فائدہ نہ دے گا بلکہ وہ ہاتھ پاؤں باند ھ کر چہروں کے بَل آگ میں دھکیل دئیے جائیں گے۔ ان کے اوپر بھی آگ ہوگی نیچے بھی آگ ۔ داہنے بھی آگ بائیں بھی آگ۔ آگ کے سمندر میں ڈوبے ہوں گے۔ کھانا آگ اور پینا آگ ، پہنا وا آگ اور بچھونا آگ، ہر طرح آگ ہی آگ، اس پر گُرزوں کی مار اور بھاری بیڑیوں کا بوجھ ۔ آگ انہیں اس طرح کھولائے گی جس طرح ہانڈیا ں کھولتی ہیں ،وہ شور مچائیں گے ان کے سروں پر سے کھولتا پانی ڈالا جائے گا جس سے ان کے پیٹ کی آنتیں او ربدنوں کی کھالیں پگھل جائیں گی، لوہے کے گُرز مارے جائیں گے جس سے پیشانیاں پچک جائیں گی، مونہوں سے پیپ جاری ہوگی ،پیاس سے