Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
44 - 132
جواب:اس کا مختصر سا بیان یہ ہے کہ جنّت میں صاف، شفّاف، چمکدار سفید موتی کے بڑے بڑے خیمے نصب ہیں ان میں رنگا رنگ، عجیب و غریب، نفیس فرش ہیں ان پر یاقوتِ سُرخ کے منبر ہیں۔ شہد و شراب کی نہریں جاری ہیں ان کے کناروں پر مُرَصَّع یعنی نگینے جڑے تَخْت بچھے ہیں ۔ جنّت کے باغات کے درمیان یاقوت کے قُصور و محلّات بنائے گئے ہیں ان میں یہ حوریں جلوہ گر ہیں۔ پروردگارِ کریم کی طرف سے ہرگھڑی انواع و اقسام کے تحفے اور ہدیئے پہنچتے ہیں۔ ہمیشہ کی زندگی عطا کی گئی ۔ ہر خواہش بلاتاخیر پوری ہوتی ہے۔ دل میں جس چیز کا خیال آیا وہ فوراً حاضر۔کسی قسم کا خوف و غم نہیں۔ ہر ساعت ہر آن نعمتوں میں ہیں۔ جنّتی نفیس و لذیذغذائیں، لطیف میوے کھاتے ہیں۔ بِہِشْتی نہروں سے دودھ شراب شہد وغیرہ پیتے ہیں۔ ان نہروں کی زمین چاندی کی، سنگریزے جواہرات کے، مٹّی خالص مشک کی، سبزہ زَعفران کا ہے۔ ان نہروں سے نورانی پیالے بھر کر وہ جام پیش کرتے ہیں جن سے آفتاب شرمائے۔
سوال:کیا جنّتی جنّت  میں ہمیشہ رہیں گے؟
جواب:جی ہاں!ایک مُنادی اہلِ جنّت کو ندا کرے گا اے بہشت والو ! تمہارے لئے صحّت ہے کبھی بیمار نہ ہوگے۔تمہارے لئے حیات ہے کبھی نہ مرو گے۔ تمہارے لئے جوانی ہے بوڑھے نہ ہوگے۔ تمہارے لئے نعمتیں ہیں کبھی محتاج نہ ہوگے۔
سوال:جنّت میں جنّتیوں کے لیے سب سے بڑی نعمت کیا ہوگی؟
جواب:تمام نعمتوں سے بڑھ کر سب سے پیاری دولت حضرت ربُّ العزّت جَلَّ جَلَا لُہٗ  کا دیدار ہے جس سے اہلِ جنّت کی آنکھیں مستفید ہوتی رہیں گی۔ اللّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بھی میسّر فرمائے ۔ آمین ثُمَّ آمین۔