کرے گا اور وہ اس کی شفاعت کریں گے۔
سوال:محشر کی ہولناکیوں،آفتاب کی نزدیکی سے بھیجے کھولنے، بدبودار پسینوں کی تکالیف اور ان مصیبتوں میں ہزارہا برس کی مدّت تک مبتلا اور پریشان رہنے کا جو بیان فرمایا یہ سب کیلئے ہے یااللّٰہ تعالیٰ کے کچھ بندے اس سے مستثنیٰ بھی ہیں یعنی جو اس میں شامل نہیں؟
جواب:ان اَہوال میں سے کچھ بھی انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَام و اولیاء و اتقیاء(پرہیزگار)و صلحاء (نیک) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمکو نہ پہنچے گا وہ اللّٰہتعالیٰ کے کرم سے ان سب آفتوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہوں گے۔ قیامت کا پچاس ہزار برس کا دن جس میں نہ ایک لقمہ کھانے کو میسّر ہوگا، نہ ایک قطرہ پینے کو، نہ ایک جھونکا ہوا کا۔ اوپر سے آفتاب کی گرمی بھون رہی ہوگی، نیچے زمین کی تَپش،اندر سے بھوک کی آگ لگی ہوگی۔ پیاس سے گردنیں ٹوٹی جاتی ہوں گی، سالہاسال کی مُدّت کھڑے کھڑے بدن کیسا دُکھا ہوا ہوگا، شدّتِ خوف سے دل پھٹے جاتے ہوں گے۔ انتظار میں آنکھیں اُٹھی ہوں گی، بدن کا پُرزہ پُرزہ لرزتا کانپتا ہوگا ،وہ طویل دن اللّٰہتعالیٰ کے فضل سے اس کے خاص بندوں کیلئے ایک فرض نماز کے وقت سے زیادہ ہلکا اور آسان ہوگا۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
حساب کا بیان
سوال:میزان سے کیا مرادہے؟
جواب: میزان سے مراد وہ ترازوہے جس میں قیامت کے دن بندوں کے اعمال تولے جائیں گے،نیک بھی بد بھی، قول بھی فعل بھی، کافروں کے بھی مؤمنوں کے بھی۔