کہ حساب فرما کر ان کے لئے حکم دے دیا جائے۔ اَب حساب شروع ہوگا۔ میزانِ عمل میں اعمال تولے جائیں گے،اعمال نامے ہاتھوں میں ہوں گے۔ اپنے ہی ہاتھ، پاؤں، بدن کے اعضاء اپنے خلاف گواہیاں دیں گے ۔ زمین کے جس حصّہ پر کوئی عمل کیا تھا وہ بھی گواہی دینے کو تیار ہوگا۔ عجیب پریشانی کا وقت ہو گا کوئی یار نہ غمگسار ۔ نہ بیٹا باپ کے کام آسکے گا نہ باپ بیٹے کے۔ اعمال کی پُرسش یعنی پوچھ گچھ ہے۔ زندگی بھر کا کیا ہوا سب سامنے ہے۔ نہ گناہ سے مُکَرْ سکتا ہے، نہ کہیں سے نیکیاں مل سکتی ہیں۔
سوال:اس مشکل گھڑی میں حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّماپنے چاہنے والوں کی کیسے مدد فرمائیں گے؟
جواب:اس بے کسی کے وقت میں بے کسوں کے مددگار، حضور پُر نور، محبوبِ خدا، محمدِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکام آئیں گے اور اپنے نیاز مندوں اور امیدواروں کی شفاعت فرمائیں گے۔ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعتیں کئی طرح کی ہوں گی بہت لوگ تو آپ کی شفاعت سے بے حساب داخلِ جنت ہوں گے اور بہت لوگ جو دوزخ کے مستحق ہوں گے حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے دخولِ دوزخ سے بچیں گے اور جو گناہگار مومن دوزخ میں پہنچ چکے ہوں گے وہ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ اہلِ جنّت بھی آپ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے فیض پائیں گے ان کے درجات بلند کئے جائیں گے۔ باقی اور انبیاء ومرسلین عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَام و صحابۂ کرام و شہداء و علماء واولیا ء رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَاپنے مُتَوَسِّلین یعنی وسیلہ ڈھونڈنے والوں کی شفاعت کریں گے۔ لوگ علماء کو اپنے تعلقات یاد دلائیں گے، اگر کسی نے عالِم کو دنیا میں وضو کے لئے پانی لا کر دیا ہوگا تو وہ بھی یاد دلا کر شفاعت کی درخواست