Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
37 - 132
گا۔ مُردے قبروں سے اُٹھیں گے ۔ نامۂ اعمال ان کے ہاتھوں میں دے کر محشر میں لائے جائیں گے۔ وہاں جزا اور حساب کیلئے منتظر کھڑے ہوں گے۔ آفتاب نہایت تیزی پر اور سروں سے بہت قریب بقدر ایک میل ہوگا۔ شدّتِ گرمی سے دماغ کھولتے ہوں گے، اس کثرت سے پسینہ نکلے گا کہ ستّر گز زمین میں جَذب ہوجائے گا   پھر جو پسینہ زمین نہ پی سکے گی وہ اوپر چڑھے گا، کسی کے ٹخنوں تک ہو گا، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کے کمر، کسی کے سینہ، کسی کے گلے تک، اور کافر کے تو منہ تک چڑھ کر مثلِ لگام کے جکڑ جائے گا۔ ہر شخص حسبِ حال و اعمال ہوگا، پھر پسینہ بھی نہایت بدبو دار ہوگا۔
سوال:اس مصیبت سے لوگوں کو کیسے نجات ملے گی؟
جواب:اس حالت میں طویل عرصہ گزرے گا ۔ پچاس ہزار سال کا تو وہ دن ہوگا اور اس حالت میں آدھا گزر جائے گا۔لوگ سفارشی تلاش کریں گے جو اس مصیبت سے نجات دلائے اور جلد حساب شروع ہو۔ انبیاء عَـلَيْـهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام کی بارگاہ میں حاضری ہوگی لیکن مقصد پورا نہ ہوگا۔آخر میں حضور پُر نور، سیّدِانبیاء، رحمتِ عالَم ،محمدِ مصطفےٰ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکے حضور میں فریاد لائیں گے اور شفاعت یعنی سفارش کی درخواست کریں گے۔ حضور پُر نورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمفرمائیں گے:’’ اَنَا لَھَا‘‘میں اس کیلئے موجود ہوں۔ یہ فرما کر حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمبارگاہِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّمیں سجدہ کریں گے۔ اللّٰہتعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوگا  یَا مُحَمَّدُ اِرْفَعْ رَأسَکَ قُلْ تُسْمَعْ وَ سَلْ تُعْطَہْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ’’اے محمد صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمسجدے سے سر اٹھائیے بات کہئے سنی جائے گی، شفاعت کیجئے قبول کی جائے گی‘‘۔ حضورصَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکی یہ شفاعت تو تمام اہلِ محشر کیلئے ہے جو شدید ڈر اور خوف کی وجہ سے فریاد کر رہے ہوں گے اور یہ چاہتے ہوں گے