امام ہو کر نُزول فرمائیں گےآپ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَام نُزول کے بعد برسوں دنیا میں رہیں گے، نکاح کریں گے پھر وفات پاکر حضور سیّدِ انبیاء عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پَہلو میں مدفون ہوں گے۔
سوال:آفتاب کے مغرب سے طلوع کرنے اور دروازۂ توبہ کے بند ہونے کی کیفیت بیان فرمائیے؟
جواب:روزانہ آفتاب بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کر کے اِذن چاہتا ہے، اِذن ہوتا ہے تَب طلوع کرتا ہے۔قریبِ قیامت جب دَابَّۃُ الارض نکلے گا، حسبِ معمول آفتاب سجدہ کر کے طلوع ہونے کی اجازت چاہے گا۔ اجازت نہ ملے گی اور حکم ہوگا کہ واپس جا۔ تب آفتاب مغرب سے طلوع ہوگا اور نصف آسمان تک آکر لوٹ جائے گا اور جانبِ مغرب غروب کرے گا۔ اس کے بعد پھر پہلے کی طرح مشرق سے طلوع کیا کرے گا ، آفتاب کے مغرب سے طلوع کرتے ہی توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر کسی کا ایمان لانا مقبول نہ ہوگا۔
سوال:قیامت کب قائم ہو گی؟
جواب:اس کا عِلم تو خدا کو ہے اور اس کے بتانے سے حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمکو ہے ۔ ہمیں اس قدر معلوم ہے کہ جب یہ سب علامتیں ظاہر ہو چکیں گی اور روئے زمین پر کوئی خدا کا نام لینے والا باقی نہ رہے گا تب حضرت اسرافیل عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ وَ الـسَّـلَام بحکمِ الٰہی صور پھونکیں گے۔ اس کی آوازشروع شروع میں تو بہت نرم ہوگی اور آہستہ آہستہ بلند ہوتی چلی جائے گی۔ لوگ اس کو سُنیں گے اور بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے اور مَرجائیں گے،زمین و آسمان اور تما م جہان فنا ہو جائے گا۔پھر جب اللّٰہ تعالیٰ چاہے گا حضرت اسرافیل کو زندہ کرے گا اور دوبارہ صور پھونکنے کا حکم دے گا ۔ صور پھونکتے ہی پھر سب کچھ موجود ہو جائے