Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
32 - 132
خزانے اُگل دے گی،امانت غنیمت یعنی مفت کامال سمجھی جائے گی، مسجدوں میں شور مچیں گے، فاسق سرداری کریں گے، فتنہ انگیزوں کی عزّت کی جائے گی، گانے باجے کی کثرت ہوگی۔ پہلے بزرگوں کو لوگ بُرا بھلا کہیں گے،کوڑے کی نوک اور جوتے کے تسمے باتیں کریں گے، دَجّال اور دَابَّۃُ الارض اور یاجُوج ماجُوج نکلیں گے۔ حضرت امام مہدی  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ظاہر ہوں گے، حضرت عیسیٰ عَـلَيْـهِ الصَّلٰوۃُ  وَ الـسَّـلَام آسمان سے اُتریں گے، سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
سوال:دَجّال کس کو کہتے ہیں، اس کے نکلنے کا حال بیان فرمائیے؟
جواب:دَجّال مسیح کذّاب کا نام ہے۔ اس کی ایک آنکھ ہوگی اور ایک سے کانا ہو گا اور اس کی پیشانی پر ’’ک  ا  ف  ر‘‘(یعنی کافر) لکھا ہوگا۔ہر مسلمان اس کو پڑھے گا ، کافر کو نظر نہ آئے گا۔ وہ چالیس دن میں تمام زمین میں پھرے گا مگر مکّہ شریف اور مدینہ شریف میں داخل نہ ہو سکے گا۔ ان چالیس دن میں پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا، دوسرا ایک مہینہ کے برابر، تیسرا ایک ہفتہ کے برابر اور باقی دن عام دنوں کے برابر ہوں گے۔ دَجّال خُدائی کا دعویٰ کرے گا اور اسکے ساتھ ایک باغ اور ایک آگ ہوگی، جس کا نام وہ جنّت و دوزخ رکھے گا۔ جو اس پر ایمان لائے گا اس کو وہ اپنی جنت میں ڈالے گا، جو حقیقت میں آگ ہوگی اور جو اس کا انکار کرے گا اس کو اپنی جہنم میں داخل کرے گا جو واقع میں آسائش کی جگہ ہوگی۔ بہت سے عجائب یعنی حیرت انگیز چیزیں دکھائے گا، زمین سے سبزہ اُگائے گا ، آسمان سے بارش برسائے گا،مُردے زندہ کرے گا، ایک مومن صالح اس طرف متوجہ ہوں گے اور ان سے دَجّال کے سپاہی کہیں گے کیا تم ہمارے ربّ پر ایمان نہیں لاتے؟ وہ کہیں گے۔ میرے