Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
26 - 132
قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں‘‘ (1)اور اسی کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا:’’اِنَّ الدُّعَاءَ يَرُدُّ القَضَاءَ بَعْدَ مَا اُبْرِمَ‘‘(2) ’’بیشک دُعا قضائے مُبرَم کو ٹال دیتی ہے۔‘‘(3)
سوال:کیا تقدیر کے موافق کام کرنے پر آدمی مجبور ہوتا ہے اس بارے میں عقیدہ کیا رکھنا چاہئے؟
جواب:نہیں۔ بندہ کو اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ نے نیکی ،بدی کے کرنے پر اختیار دیا ہے۔ وہ اپنے اختیار سے جو کچھ کرتا ہے وہ سب اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کے یہاں لکھا ہوا ہےجیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ   قضا و قدر کے مسائل عام عقلوں میں نہیں آسکتے، ان میں زیادہ غور و فکر کرنا سببِ ہلاکت ہے، صدیقِ اکبر وفاروقِ اعظمرَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْھُمَاکواس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ تو ہم اور آپ کس گنتی میں ہیں ...! اتنا سمجھ لیا جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے آدمی کو  پتھر  اور دیگر جمادات کی طرح بے حس و حرکت نہیں پیدا کیا، بلکہ اس کو ایک نوعِ اختیار (یعنی ایک طرح کا  محدوداختیار ) دیا ہے کہ ایک کام چاہے کرے، چاہے نہ کرے اور اس کے ساتھ ہی عقل بھی دی ہے کہ بھلے، بُرے، نفع، نقصان کو پہچان سکے اور ہر قسم کے سامان اور اسباب مہیّا کر دیے ہیں، کہ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے اُسی قسم کے سامان مہیّا ہو جاتے ہیں اور اسی بنا پر اُس پر مؤاخذہ ہوتا ہے۔اس سچے عقیدہ کو یاد رکھا جائے اور دل میں بسا لیا جائے اسی پر قائم رہا جائے غیر ضروری غور و خوض سے باز رہا جائے تو وسوسوں سے چھٹکارا مل جاتا ہے،یہ  عقیدہ بھی یاد رہے کہ اپنے آپ کو بالکل مجبور سمجھنا یا بالکل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مکتوبات امام ربانی، مکتوب نمبر۲۱۷،۱/۱۲۳۔۱۲۴
2 …الفردوس بمأثور الخطاب،۵/۳۶۴،حدیث:۸۴۴۸، بتغیرٍ 
3… بہار شریعت ،حصہ۱،۱/۱۲۔ ۱۶، بتغیرٍ