جب قومِ لوط پر فرشتے عذاب لے کر آئے تھے تو سیّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ عَـلَـيْهِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے ان کافروں کے بارے میں اتنی کوشش کی کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ (یُجَادِلُنَا فِیۡ قَوْمِ لُوۡطٍ ﴿ؕ۷۴﴾)(1)’’ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں۔‘‘
یہ قرآنِ عظیم نے اُن بے دینوں کا رَد فرمایا جو محبوبانِ خدا کی بارگاہِ عزّت میں کوئی عزّت و وجاہت نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اس کے حضور کوئی دَم نہیں مار سکتا، حالانکہ اُن کا رب عَزَّ وَجَلَّ اُن کی وجاہت اپنی بارگاہ میں ظاہر فرمانے کو خود ان لفظوں سے ذکر فرماتا ہے کہ : ’’ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں‘‘، حدیث میں ہے: شب ِمعراج حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے ایک آواز سُنی کہ کوئی شخص اﷲ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ بہت تیزی اور بلند آواز سے گفتگو کر رہا ہے،حضورِ اقدس صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے جبریلِ امین عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہیں؟ عرض کی: موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ، فرمایا: کیا اپنے رب پر تیز ہو کر گفتگو کرتے ہیں؟ عرض کی: اُن کا رب جانتا ہے کہ اُن کے مزاج میں تیزی ہے۔ جب آیۂ کریمہ(وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾)(2) نازل ہوئی کہ ’’بیشک عنقریب تمھیں تمھارا رب اتنا عطا فرمائے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔‘‘تو حضور سیّدُالمحبوبین صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اِذاً لاَّ اَرْضٰی وَوَاحِدٌ مِّنْ اُمَّتِیْ فِی النَّارِ‘‘(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… پ١٢،ھود:٧٤
2… پ٣٠،الضحٰى:٥
3 … تفسیر کبیر، پ۳۰، الضحی: تحت الآیة: ۵، ۱۱/۱۹۴