کے علمِ اَزَلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے، اسی کو تقدیر کہتے ہیں۔
ہر بھلائی برائی اس نے اپنے علمِ اَزَلی کے مُوافق مُقدّر فرمادی ہے جیسا ہونے والا تھا اور جو جیسا کرنے والا تھا اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ لیا تو یہ نہیں کہ جیسا اس نے لکھ دیا ویسا ہم کو کرنا پڑتا ہے بلکہ جیسا ہم کرنے والے تھے ویسا اس نے لکھ دیا زید کے ذمّہ برائی لکھی اس لئے کہ زید برائی کرنے والا تھا اگر زید بھلائی کرنے والا ہوتا وہ اس کے لئے بھلائی لکھتا تو اس کے علم یا اس کے لکھ دینے نے کسی کو مجبور نہیں کردیا تقدیر کے انکار کرنے والوں کو نبی صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے اس امت کا مجوس بتایا ہے۔(1)
سوال:تقدیر کی کتنی قسمیں ہیں کیا تقدیر بدل بھی جاتی ہے ؟
جواب:تین قسمیں ہیں (۱) مُبْرَمِ حقیقی (۲) مُعلّقِ محض (۳) معلقِ شبیہ بہ مُبْرَم
پہلی قسم یعنی مُبْرَمِ حقیقی وہ ہوتی ہے جو علمِ الٰہی میں کسی شے پر مُعلّق نہیں۔
دوسری قسم یعنی مُعلّقِ محض وہ ہوتی ہے جس کا ملائکہ کے صحیفوں میں کسی شے پر مُعلّق ہونا ظاہر فرمادیا گیا ہو۔
تیسری قسم یعنی مُعلّقِ شبیہ بہ مُبْرَم وہ ہوتی ہے جس کا ملائکہ کے صحیفوں میں مُعلّق ہونا ظاہر نہ فرمایا گیا ہو مگر علمِ الٰہی میں کسی شے پرمُعلّق ہو۔
ان میں سے پہلی قسم مُبْرَمِ حقیقی کا بدلنا ناممکن ہے اللّٰہ تعالیٰ کے محبوب بندے اکابرین بھی اتفاقاً اس میں کچھ عرض کرتے ہیں تو انھیں اس خیال سے روک دیا جاتا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۔۔۔ بہار شریعت،حصہ۱،۱/۱۱