Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
130 - 132
ہے صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکے لئے نہیں۔(1)
سوال: چاروں ائمّہ کے علاوہ کسی اور امام کی تقلید اب کیوں نہیں ہوسکتی ؟
جواب: چاروں ائمّہ میں سے کسی ایک امام کا مُقلّد ہونا ضروری ہے کیونکہ اب حق انہیں چاروں میں منحصر ہے کیونکہ ان ائمّہ اربعہ کے اقوال ہی صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہیں اور صرف انکے مذاہب ہی مُنَقّح ہیں جبکہ سلف میں ائمّہ اربعہ کے علاوہ دیگر مجتہدین کے اقوال نہ تو اسنادِ صحیح کے ساتھ مروی ہیں نہ کتبِ مشہورہ میں جمعیّت کے ساتھ مُدَوَّن ہیں کہ ان پر اعتماد صحیح ہو اور نہ ہی انکے مذاہب مُنَقّح ہیں اسی وجہ سے صرف ائمّہ اربعہ ہی کے مذاہب لائقِ اعتماد وقابلِ عمل ہیں۔
جیسا کہ علامہ سیّد احمد مصری طحطاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لکھتے ہیں :’’هٰذِهِ الطَّائِفَةُ النَّاجِيَةُ، قَدْ اِجْتَمَعَتِ الْيَوْمَ فِيْ مَذَاهِبِ أَرْبَعَةٍ وَهُمُ الْحَنَفِيُّوْنَ وَالْمَالِكِيُّوْنَ وَالشَّافِعِيُّوْنَ وَالْحَنْبَلِيُّوْنَ رَحِمَهُمُ اللهُ تَعَالٰى وَمَنْ كَانَ خَارِجًا عَنْ هٰذِهِ الْأَرْبَعَةِ فِيْ هٰذَا الزَّمَانِ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْبِدْعَةِ وَالنَّارِ‘‘
یعنی اہلِ سنّت کا گروہِ ناجی اب چار مذہب میں مجتمع ہے وہ حنفی ،مالکی ،شافعی اور حنبلی ہیں، ان سب پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو ،آج کے دور میں جو ان چار مذاہب سے خارج ہو بدعتی اور جہنمی ہے۔(2)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…جاء الحق، حصہ اول، ص۳۱
…حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار،کتاب الذبائح،۴/۱۵۳