Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
129 - 132
میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں تم جن کی پیروی کرو گے ہدایت پالو گے۔(1)’’عليکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين‘‘ تم لازم پکڑو میری اور میرے خلفاءِ راشدین کی سنّت۔(2)
یہ سوال تو ایسا ہے جیسے کوئی کہے ہم کسی کے اُمّتی نہیں کیونکہ ہمارے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کسی کے اُمّتی نہ تھے تو اُمّتی نہ ہونا سنّتِ رسول اللہ ہے، اس سے یہ ہی کہا جائے گاکہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تو خود نبی ہیں سب آپ کی اُمّت ہیں وہ کس کے اُمّتی ہوتے ہم کو اُمّتی ہونا ضروری ہے ایسے ہی صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ تمام کے امام ہیں ان کا کون مسلمان امام ہوتا۔نہر سے پانی اس کھیت کو دیا جاوے گا جو دریا سے دور ہو، مُکبّرین کی آواز پر وہی نماز پڑھے گا جو امام سے دور ہو، لبِ دریا کے کھیتوں کو نہر کی ضرورت نہیں ،صفِ اول کے مقتدیوں کو مُکبّرین کی ضرورت نہیں، صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْصفِ اوّل کے مقتدی ہیں وہ بلا واسطہ سینۂ پاکِ مصطفےٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فیض لینے والے ہیں ہم چونکہ اس بَحر سے دور ہیں لہٰذا کسی نہر کے حاجتمند ہیں ،پھر سمندر سے ہزار ہا دریا جاری ہوتے ہیں جن سب میں پانی تو سمندر ہی کاہے مگر ان سب کے نام اور راستے جدا ہیں کوئی گنگا کہلاتا ہے کوئی جمنا، ایسے ہی حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آبِ رحمت کے سمندر ہیں اس سینہ میں سے جو نہر امام ابو حنیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سینہ سے ہوتی ہوئی آئی اسے حنفی کہا گیا جو امام مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے سینہ سے آئی وہ مذہبِ مالکی کہلایا،پانی سب کا ایک ہے مگر نام جُداگانہ اور ان نہروں کی ہمیں ضرورت پڑی نہ کہ صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکو جیسے حدیث کی اسناد ہمارے لئے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مشکاة المصابیح، کتاب المناقب، باب مناقب الصحابة،۲/۴۱۴،حدیث:۶۰۱۸
2…مشکاة المصابیح، کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنة،۱/۵۳،حدیث:۱۶۵