أَقْضِىْ بِكِتَابِ اللهِ قَالَ: ’’فَإِنْ لَّمْ تَجِدْ فِیْ كِتَابِ اللهِ؟‘‘ قَالَ:فَبِسُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ قَالَ: ’’فَإِنْ لَّمْ تَجِدْ فِیْ سُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِ؟‘‘ قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِیْ وَلاَ آلُوْ قَالَ: فَضَرَبَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ عَلٰى صَدْرِهٖ وَ قَالَ: ’’أَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اللهِ لِمَا يَرْضٰى بِهٖ رَسُوْلُ اللهِ‘‘.رواه الترمذی و أبو داؤد و الدارمی
یعنی روایت ہے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہ رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا: جب تمہیں کوئی مسئلہ درپیش ہو تو کس طرح فیصلے کروگے، عرض کیا: اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، فرمایا: اگر تم اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ، عرض کیا: تو رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی سنّت سے فیصلہ کروں گا،فرمایا: اگر تم رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کی سنّت میں بھی نہ پاؤ، عرض کیا:اپنی رائے سے قیاس کروں گا اور کوتاہی نہ کروں گا، فرماتے ہیں: تب رسولُ اللہ صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا(تھپکی دی)اور فرمایا: شکر ہے اس کا جس نے رسولُ اللہ کے رسول کو اس کی توفیق دی جس سے رسولُ اللہ راضی ہیں۔(1)(ترمذی، ابو داؤد،دارمی)(بحوالہ مشکوٰۃ)
مزیدمفتی احمد یارخاں نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ارشاد فرماتے ہیں :صحابۂ کرام کو کسی کی تقلید کی ضرورت نہ تھی وہ تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صحبت کی برکت سے تمام مسلمانوں کے امام اور پیشوا ہیں کہ ائمّہ دین امام اعظم ابو حنیفہ وشافعی وغیرہ وغیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ انکی پیروی کرتے ہیں۔
مشکوٰۃ باب فضائلُ الصحابہ میں ہے:’’أَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ فَبِاَيِّهِمْ إِقْتَدَيْتُمْ إِهْتَدَيْتُمْ‘‘یعنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مشکاة المصابیح، کتاب الامارة والقضاء، باب العمل فی القضاء۔۔۔الخ،۲/۱۴،حدیث:۳۷۳۷