Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
127 - 132
ہے ورنہ وہ فلاح وہدایت ہرگز نہ پاسکے گا ۔
	اس کو ایک دُنیاوی مثال سے یوں سمجھیں کہ اگر کسی منزل پر پہنچنے کے مختلف راستے ہوں تو منزل پر وہی شخص پہنچے گا جو ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرے اور جو کبھی ایک راستہ پر چلے ،کبھی دوسرے راستہ پر ،پھر تیسرے پر پھر چوتھے پر تو ایسا شخص راستہ ہی ناپتا رہ جائے گا کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا یہی حال اس شخص کا ہوگا جو کسی ایک امام کی تقلید کا دامن نہ تھام لے بلکہ کسی مسئلہ میں کبھی کسی امام کی پیروی کرے اور کبھی دوسرے کی ،پھر تیسرے کی پھر چوتھے کی تو وہ منزلِ آخرت جو کہ جنّت ہے اس تک نہیں پہنچ سکے گا بلکہ خواہشِ نفس کی خاطر راستہ ناپتا ہی رہ جائے گا اور راہِ منزل سے گم ہوکر گمراہی واندھیرے میں جاپڑے گا۔
سوال: اگر تقلید ضروری ہے تو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے زمانہ میں تقلید کیوں نہیں ہوئی؟
جواب: صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری زندگی میں درپیش مسائل سے متعلق نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سے اس کا حکم پوچھ لیا کرتے تھے اور بسا اوقات جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرنا ممکن نہ ہوتا تو صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اجتہاد کرکے حکمِ شرعی پر عمل فرماتے تھے۔اجتہاد کی اصل مشہور حدیث شریف ہے حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے اوّلاً حدیث شریف کا متن اور اس کا ترجمہ ملاحظہ کیجئے۔
	عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللهُ تَعَالىٰ عَنْهُ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالىٰ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَه‘ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ:’’كَيْفَ تَقْضِىْ إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟‘‘ قَالَ: