کسی راستہ بتانے والے کی تقلید کرکے منزلِ مقصود تک پہنچتا ہے، ایک ناخواندہ اپنے مُعلّم کی تقلید ہی سے صاحبِ علم وفضل بنتا ہے ۔صنعت وحرفت سے عاری کسی ماہرِ فن اُستاذ کی تقلید کرکے ہی صنعت کار ہوتا ہے یہ وہ روزمَرّہ کی باتیں ہیں کہ ان سے نہ تو انکار کی کوئی گنجائش ہے اور نہ بَحث وتمحیص کی ۔۔۔۔۔اور یہی تقلید ہے ۔(1)
سوال: چاروں ائمّہ میں سے کسی ایک کی تقلید کیوں واجب ہے جب چاروں حق پر ہیں تو چاروں کی تقلید کی اجازت ہونی چاہئے جب چاہیں جس امام کی تقلید کریں؟
جواب: بلا شبہ چاروں امام(امام ابوحنیفہ، امام مالک ،امام شافعی ، اورامام احمد بن حنبل رَضِیَ اللہُ عَنْھُمْ اَجْمَعِیْن ) حق پر ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک امام کی پیروی اس لئے ضروری ہے کہ اگر ایسا نہ ہو تو ہر شخص اپنے نفس کی پیروی کرے گا اور جب دل چاہے گا جس امام کا مسئلہ آسان اور نفس کی خواہش کے مطابق اسے محسوس ہوگا اس پر عمل کرلے گااور یہ شریعتِ مطہرہ کا مذاق اڑانا ہے کیونکہ بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ بعض ائمّہ کے نزدیک حلال اور وہی مسائل بعض ائمّہ کے نزدیک حرام ہیں اور یہ نفس کا پیرو کارصبح ایک امام کی پیروی کرتے ہوئے ایک مسئلہ کو حرام سمجھ کراس لئے عمل نہ کرے گا کہ اس میں اس کے نفس کا مفاد نہیں ہے اور جب شام کو بلکہ اسی لمحے اس میں اپنا مفاد نظر آئے گاتو دوسرے امام کا مذہب اختیار کرتے ہوئے اسی مسئلہ کو اپنے لئے حلال کر لے گا اور اس طرح فقط خواہشِ نفس کی بنیاد پر احکامِ شرعیہ کو کھیل بناکر پامال کرتا پھرے گا اس لئے انسان کو خواہشِ نفس پر عمل کرنے کے بجائے دین وشریعت پر عمل کرنے کیلئے کسی ایک امام مجتہد کا مُقلّد ہونا ضروری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مقالاتِ شارح بخاری، ۱/۲۵۳،ملخصاً