تقلید کی ضرورت واہمیت
سوال: تقلید کی حقیقت اور اس کے ضروری ہونے پر دلائل بیان کردیجئے؟
جواب: ایک سمجھدار بچّہ بھی یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ ایسا شخص جو بالکل جاہل اور اَن پڑھ ہے اور اسے اپنے کام سے فرصت بھی نہیں ہے کیا وہ یہ اہلیت و استطاعت رکھ سکتاہے کہ کتابیں پڑھ کر ہی خود کوئی مسئلہ معلوم کر لے، کجا یہ کہ وہ براہِ راست قرآن وحدیث سے مسئلے نکالے اور اس پر عمل کرے۔ہر عاقل کے نزدیک اس کا جواب یقیناًنفی میں ہوگا۔ لامحالہ وہ جاہل شخص کسی عالم سے پوچھے گا۔ وہ عالم اگر خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے کی اہلیت نہیں رکھتا تو وہ اسے ان کتب سے پڑھ کر بتائے گا جس میں کسی عالمِ مجتہد کے اَخذ و مرتب کردہ مسائل لکھے ہوں گے، اور اس مجتہد عالم نے وہ مسائل قرآن و سنّت ہی سے نکال کر بیان کئے ہوں گے۔ تو ایک جاہل یا عالمِ غیر مجتہد جو اجتہاد کے ذریعے خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے کی اہلیت و صلاحیت ہی نہیں رکھتا اس پر یہ ذمّے داری عائد کر دینا کہ وہ خود قرآن و حدیث سے مسائل نکالے اس کے لئے تكليف ما لا يُطاق ہے (یعنی ایسی تکلیف ہے جس کی وہ طاقت و اہلیت ہی نہیں رکھتا)، بلکہ حکمِ قرآنی کے صریح خلاف ہے۔
معمولاتِ شرعیہ سے قطعِ نظر کرتے ہوئے جب ہم روزمَرّہ کے حالات اور اپنے طرزِ زندگی پر نظر کرتے ہیں تو صاف نظر آتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحہ تقلید کے بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں اس میں عوام وخواص،شہری،دیہاتی ہر طبقہ کے لوگ مساوی حصّہ دار ہیں۔ آپ غور کریں کہ ایک بچّہ ہوش سنبھالتے ہی اپنے ماں باپ اپنے مُرَبّی کی تقلید کے سہارے پروان چڑھتا ہے، ایک بیمار اپنے معالج کی تقلید کرکے ہی شفا ء یا ب ہوتا ہے، ایک مستغیث کسی قانون داں وکیل کی تقلید کرکے ہی اپنا حق پاتا ہے ،راستہ سے نابلد ایک راہ رو