ہوتا ہے:
قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ (پ١١،يونس:٥٨)
ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ اللّٰہ ہی کے فضل اوراسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ فضل و رحمت پر خوشی کرنا چاہیے لہٰذا مسلمان حضورِ انور، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو فضل ورحمت جان کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا ذکر کر کے خوشی مناتے ہیں اور یہ حکمِ الٰہی ہے۔
چُنانچہاللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ﴿٪۱۱﴾(پ٣٠،الضحٰى:١١)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔
نبی کریم ، رءوف رَّحیم،حلیم کریم عظیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمت ہیں اور نعمتِ الٰہی کا چرچا کرنا حکمِ خداوندی ہے۔ لہٰذا مسلمان حبیبِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو نعمتِ الٰہی سمجھتے ہوئے محفلِ میلاد کی صورت میں اسکا چرچا کرتے ہیں۔
سوال:اس ضِمن میں حدیث میں کوئی واقعہ مذکور ہو تو وہ بھی بیان فرمادیں؟
جواب:بخاری شریف میں ہے:’’حضرت عُروہ فرماتے ہیں:ثُـوَ یْبَہ ابو لہب کی باندی تھی جسے اس نے (حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی پیدائش کی خوشی میں)آزاد کر دیا تھا۔ اس نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو دودھ بھی پلایا ۔ ابو لہب کے مرنے کے بعد اسکے بعض اہل (حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)نے اسے بہت بُری حالت میں خواب میں دیکھاا ور اس سے پوچھا مرنے کے بعد تیرا کیا حال رہا؟ ابولہب نے کہا :تم سے جُدا ہوکر میں نے کوئی راحت نہیں پائی سوائے اسکے کہ میں تھوڑا سا سیراب کیا جاتا ہوں اس لیے کہ میں نے