تھے۔لیکن ان کاموں کو کوئی گناہ نہیں کہتا اورنہ ہی کوئی منع کرتاہے آخر کیوں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ممانعت کی دلیل موجود نہیں ہے اگرچہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم یا صحابۂ کرام عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَان کے زمانے میں بعض کام نہیں ہوئے مگر چونکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَاننے ان سے منع بھی تو نہیں فرمایا ہے لہٰذا یہ کام کرنا،جائز ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
میلاد شریف منانا
سوال:میلاد شریف منانا کیسا ہے؟
جواب:میلاد شریف منانا جائز اور مستحسن یعنی بہت اچھا کام ہے ۔
سوال:میلاد شریف میں کیا ہوتا ہے؟
جواب:میلاد عرفِ عام میں ذکرِمصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا نام ہے خواہ دو آدمی مل کر کریں یا ہزاروں اور لاکھوں ۔ اس محفل میں اللّٰہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی جاتی ہے، تلاوتِ قرآنِ مجید ہوتی ہے اور ذکرِ حبیبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہوتا ہے اور ان کی نعتیں پڑھی جاتی ہیں اور ان پر صلوٰۃ وسلام پیش کیا جاتا ہے۔
سوال:میلاد شریف منانے کا ثبوت کیا ہے؟
جواب:میلاد کا جواز بکثرت آیات و احادیث اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے۔ اگرچہ جواز کے لئے یہ دلیل بھی کافی ہے کہ اس کی ممانعت شرع سے ثابت نہیں ہے اور جس کام سے اللّٰہ تعالیٰ اور رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے منع نہیں فرمایا وہ کسی کے منع کرنے سے ممنوع نہیں ہوسکتا ۔ آیاتِ قرآنِ مجید آقائے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی آمد کے ذکرِ خیر سے مالامال ہیں:چُنانچہ پارہ 11سورۂ یونس کی آیت 58 میں ارشاد