(۲)…بدعتِ مستحبہ جیسے:مدرسوں کی تعمیر اور ہر وہ نیک کام جس کا رواج ابتدائی زمانہ میں نہیں تھا جیسے محفلِ میلاد شریف وغیرہ۔
بدعتِ سیّئہ: وہ بدعت ہے جو قرآن وحدیث کے اُصول وقواعد کے مُخالِف ہو،اس کی بھی دوقسمیں ہیں:
(۱)…بدعتِ محرمہ،جیسے بُرے عقائد
(۲)…بدعتِ مکروہہ، جیسے گناہوں کے نت نئے انداز
بدعتِ مُباحہ: وہ بدعت ہے جو حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ظاہری زمانہ میں نہ ہو اور حکمِ شریعت کے خلاف نہ ہو اور کرنے والا ثواب کا حقدار بھی نہ ہو جیسے عمدہ عمدہ کھانے وغیرہ۔
سوال:کچھ ایسے معاملا ت کی مثالیں بیان فرمادیں جو عہدِ رسالت میں نہ تھیں اور مسلمانوں نے بعد میں ایجاد کیں اور اس کو اچھا بھی سمجھتے ہیں ؟
جواب:اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)…حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے تراویح کی جماعت شروع کروائی لیکن حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اور حضرت ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مبارک زمانے میں ایسا نہیں ہوا تھا۔
(۲)…قرآنِ پا ک کے اوپرنقطے و اعراب حجاج بن یو سف کے دور میں لگے ہیں چاروں صحابہ عَـلَيْهِمُ الرِّضْوَاننے یہ کا م نہیں کیا جو اس نےکروایا اور اس پر کسی عالِم نے انکا ربھی نہیں کیا علمائے حق کی اجازت و تحسین کی بناء پر یہ عمل بھی مستحسن ہے۔
(۳)…مسجد میں امام کے کھڑے ہونے کے لئے محراب بناناولید مَروانی کے دور میں سیّد نا عمر بن عبدالعزیزرَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهنے ایجاد کیا تھا۔
(۴)…چھ کلمے،اس طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے مقدّس دور میں مرتب نہ