ہے:’’جو کوئی اسلام میں اچھاطریقہ جاری کرے اس کو اس کا ثواب ملے گا او راس کابھی جو اس پر عمل کریں گے او ران کے ثواب میں بھی کمی نہ ہوگی اور جو شخص اسلام میں بُراطریقہ جاری کرے اس پر اس کا گناہ ہوگا اوران کا بھی جو اس پر عمل کریں او ران کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ آئے گی۔(1)
سوال:اچھی بدعت یعنی بدعتِ حَسَنَہ پر کوئی واقعہ بھی ارشاد فرمادیں ؟
جواب:حضرت سیّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے تک مسلمان تنہااکیلے اکیلے نمازِ تراویح پڑھا کرتے تھے، حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مسجد کے پاس سے گزرے اور ان کو تنہا تراویح پڑھتے دیکھا تو سب کو ایک جگہ جمع کیا اور تراویح کی جماعت شروع کروائی اور حضرت اُبیّ بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ان کا امام مُقرّر کیا اور پھر یہ الفاظ ارشاد فرمائے: نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہٖیعنی یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے۔(2)
سوال:بدعت کی کتنی اقسام ہیں؟
جواب:بدعت کی تین قسمیں ہیں:۔(۱)بدعتِ حَسَنَہ(۲)بدعتِ سَیّئہ (۳)بدعتِ مُباحَہ
بدعتِ حسنہ: وہ بدعت ہے جو قرآن وحدیث کے اُصول وقواعد کے مطابق ہو اور شریعت کی نگاہ میں اس پر عمل کرنا ضروری ہو یا بہتر، اس کی دوقسمیں ہیں:
(۱)…بدعتِ واجبہ جیسے: قرآن وحدیث سمجھنے کے لئے علمِ نحوکا سیکھنا اور گمراہ فِرقوں پر رَدّ کے لئے دلائل قائم کرنا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… صحیح مسلم،کتاب الزکاة، باب الحث على الصدقة ولو بشق تمرة۔۔۔الخ،ص۵۰۸،حدیث:۱۰۱۷
2… مشکوة المصابیح،کتاب الصلاة، باب قیام شھر رمضان، الفصل الثالث،۱/۲۵۴، حدیث:۱۳۰۱، ملخصاً