لوٹتا ہے(1)اس لئے مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسوں سے جو بلاوجہ مسلمانوں کو بات بات پر شِرک و بدعت کے حکم لگاتے ہیں دور رہیں کہ حدیثِ مبارک میں بدمذہبوں سے دور رہنے اوران کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے،سلام کرنے وغیرہ دیگر معاملات سے منع فرمایا گیاہے۔
حدیثِ مبارک:
حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’بد مذہب سے دور رہو اور ان کو اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور کہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔‘‘(2)
سوال:بدعت کسے کہتے ہیں؟
جواب:بدعت سے مراد ہر وہ نیا کام ہے جو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے مبارک دور میں نہ تھا بعد میں کسی نے اس کو شروع کیا، اب اگر یہ کام شریعت سے ٹکراتا ہے تو اس بدعت کو بدعتِ سَیّئہ یعنی بُری بدعت کہتے ہیں، اسی کے بارے میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ یہ مَردود ہے اور وہ نیا کام جو قرآن و سنّت کے خلاف نہیں ہے اسکو بدعتِ مُباحہ یا حَسَنَہ یعنی اچھی بدعت کہتے ہیں یعنی حکم کے اعتبار سے مُباح ہے تو مُباحَہ اور مستحسن ہے تو حَسَنَہ بلکہ بعض بدعاتِ حَسَنَہ تو واجِبَہ بھی ہوتی ہیں جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
سوال:اچھی بدعت پر عمل کرنا کیسا؟
جواب:اچھی بدعت کو بدعتِ حَسَنَہ کہا جاتا ہے اس پرعمل کرنا کبھی واجب،کبھی مستحب ہوتاہے اوراچھا طریقہ جاری کرنے والا اجروثواب کا حقدار ہے جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بيان حال إيمان من قال لأخيه المسلم:يا كافر،ص۵۱،حدیث:۶۰
2… صحیح مسلم،مقدمة، باب النہی عن رویة عن الضعفاء۔۔۔الخ،ص۹،حدیث:۷