اسی طرح امُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھَا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے حضور کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی تلاش میں نکلی میں نے حضو ر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جنّتُ البقیع میں پایا، حضور سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:’’اللّٰہتعالیٰ نصف شعبان کی رات کو آسمانِ دنیا کی طرف نُزولِ رحمت فرماتاہے اور قبیلۂ بنی کَلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے۔‘‘(1)
سوال:بڑی راتوں میں جمع ہوکر عبادت کرنا کیسا ہے ؟
جواب:جائز ومستحسن ہے ۔ فتاویٰ رضویہ میں بحوالہ لَطائِفُ المعارِف ہے:’’اہلِ شام میں آئمہ تابعین مثل خالد بن مَعدان و امام مکحول و لقمان بن عامر وغیرہُم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِم) شبِ براءت کی تعظیم اور اس رات عبادت میں کوششِ عظیم کرتے اور انہیں سے لوگوں نے اس کا فضل ماننا اور اس کی تعظیم کرنا اَخذ کیا ہے۔‘‘(2)
سوال:ان راتوں میں مساجد کو سجانا کیسا ہے ؟
جواب:جائز ومستحسن ہے کیونکہ اس سے مقصود اس رات کی تعظیم ہوتا ہے اور بحوالہ لطائِفُ المعارف گزر چکا کہ ائمہ تابعین اس رات کی تعظیم کیا کرتے تھے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
شِرک و بدعت
سوال:شِرک کسے کہتے ہیں؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب الصوم،باب ماجاء فی ليلة النصف من شعبان،۲/۱۸۳،حدیث: ۷۳۹
2… فتاوی رضویہ،۷/۴۳۳