Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
112 - 132
سوال: اگر یہ دلائل نہ ہوتے تو کیا پھر بھی ایسا کرناجائز ہوتا؟
جواب:جی ہاں !اگر اس کے لئے کوئی خاص دلیل نہ بھی ہوتو شریعت کی طرف سے اس کی ممانعت نہ ہونا ہی اس کے جائز ہونے کے لئے کافی ہے کیونکہ یہ چیزیں اصل کے اعتبار سے جائز ہیں جب تک کہ شریعت منع نہ کردے۔ یہی وجہ ہے کہ اذان کے علاوہ بھی محبت و تعظیم کی وجہ سے حضورسرورِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا  جائز ومستحسن ہے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
قبر پر اذان
سوال:دفن کرنے کے بعد قبر پر اذان دینا کیساہے؟
جواب: دفن کے بعد قبر پر اذان دیناجائزو مستحسن ہے ۔
سوال:قبر پر اذان دینے کا ثبوت کیا ہے؟ 
جواب: قبر پر اذان دینے کا جواز یقینی ہے کیونکہ شریعتِ مطہر ہ نے اس سے منع نہیں فرمایا اور جس کام سے شرع مطہرہ منع نہ فرما ئے اصلا ً  ممنوع نہیں ہوسکتا۔نیز احادیث سے ثابت ہے کہ جب مُردے کو قبر میں اتارنے کے بعدمنکر نکیر ا س کے پاس آکرسوالات کرتے ہیں توشیطان جوکہ انسان کا اَزَلی دشمن ہے، مسلمان کو بہکانے کیلئے وہاں بھی آپہنچتا ہے اور یہ بات بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شیطان قبر میں آتا اور مسلمان کو سوالات کے جواب دینے میں پریشانی میں مبتلا کرتا ہے تاکہ یہ سوالات کے جوابات نہ دے کر خائب و خاسِر ہو اور جب اذان دی جاتی ہے تو شیطان بھا گ کھڑا ہوتا ہے۔
چُنانچہ روایت میں ہے:’’جب مُردے سے سوال ہو تاہے کہ تیرا رب کون ہے؟ شیطان