Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
111 - 132
مُذنِباں صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی محبت کی علامت ہے۔
سوال:اس کا کیا ثبوت ہے؟
جواب:علامہ ابنِ عابدین شامی رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:’’مستحب یہ ہے کہ جب پہلی شہادت سنے تو کہے:صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اور جب دوسری سُنے تو دونوں انگوٹھے اپنی دونوں آنکھوں پر لگانے کے بعدکہے:قَرَّتْ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِپھر یہ کہے اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِتو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم جنّت کی طرف اس کے قائد ہونگے جیسے کہ کَنْزُ الْعِباد اور الفتاوی الصّوفیۃ میں ہے اور کتابُ الفردوس میں ہے کہ جس نے اذان میںاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِسننے کے بعد اپنے دونوں انگوٹھوں کو بوسہ دیا توجنّت کی صفوں میں، میں اس کا قائد اور داخل کرنے والا ہوں گا۔(1)
سوال:انگوٹھے چومنے کے بارے میں کوئی واقعہ ہو تو وہ بیان فرمادیں ؟
جواب:اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت مجدّدِ دین و ملّت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مسندُالفردوس کے حوالے سے فرماتے ہیں:’’حضرت ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ جب آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مؤذّن کو اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْ لُ اللّٰہ کہتے سُنا یہ دُعا پڑھی اور دونوں کلمے کی انگلیوں کے پورے جانبِ زیریں سے چُوم کر آنکھوں سے لگائے، اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جو ایسا کرے جیسا میرے پیارے نے کیا اس کے لئے میری شفاعت حلال ہوجائے۔ (2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ردالمحتار،کتاب الصلاة، مطلب فی کراھة تکرار الجماعة فی المسجد،۲/۸۴
2… فتاویٰ رضویہ،۵/۴۳۲