Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
110 - 132
ہفتہ اتوار اور سوموار کے دن،صبح و شام،مسجد میں جاتے او ر نکلتے وقت ،بوقتِ زیارت روضۂ اطہر،صفا و مروہ پر،خطبۂ جمعہ کے وقت ،جوابِ اذان کے بعد ،بوقت ِاقامت ،دعا کے اوّل آخِر اور بیچ میں،دعائے قنوت کے بعد،تَلْبِیَہ کہنے کے بعد، کان بجنے کے وقت اور کسی چیز کے بھول جانے کے وقت۔‘‘(1)
سوال:بعض لوگ کہتے ہیں کہ اذان و اقامت سے قبل درود شریف نہ پڑھاجائے کہ عوامُ النّاس کہیں درود شریف کو اذان و اقامت کا حصّہ نہ سمجھ لیں،کیا یہ بات درست ہے؟
جواب:اس کا حل یہ نہیں کہ ایک مستحسن کام بند کردیاجائے،علماءِ کرام نے اس کا حل یہ پیش فرمایا ہے کہ اذان واقامت سے پہلے درود میں یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ درود شریف پڑھنے کے بعد کچھ وقفہ کرے پھر اذان یا اقامت کہے تاکہ درود شریف اور اذان واقامت کے درمیان فاصلہ ہو جائے یا درود شریف کی آواز اذان و اقامت کی آواز سے پَست رہے تاکہ دونوں کے درمیان فرق رہے اور درود شریف کو اقامت کا جُزء نہ سمجھیں۔اس طرح اذان واقامت پڑھنے والا خوش نصیب صلوٰۃ و سلام کی برکتوں سے بھی مستفید ہوتا رہے گا۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
انگوٹھے چومنا
سوال:اذان میں حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے اسمِ گرامی محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کو سُن کر اپنے انگوٹھے چوم کر اپنی آنکھوں سے لگانا کیسا ہے؟
جواب:جائزو مستحسن و موجبِ اجر وثواب ہے اور سرکارِ دوجہاں ،رحمتِ عالمیاں،شفیعِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ردالمحتار،کتاب الصلاة، مطلب نص العلماء علی استحباب۔۔۔الخ،۲/۲۸۱