جواب: قرآنِ پاک میں فرمانِ باری تعا لیٰ ہے: اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا (پ ٢٢،الأحزاب:٥٦)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اللّٰہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے(نبی)پر اے ایمان والو، ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
قرآنِ پاک کی اس آیتِ مبارکہ میں اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے درودِ پاک پڑھنے کا حکم دیا اور اس میں نہ تو کوئی الفاظ مقرّر فرمائے کہ انہیں الفاظ کے ساتھ درود پڑھو اور نہ ہی کسی وقت کی قید لگائی ہے کہ اِس وقت پڑھو اور اُس وقت نہ پڑھو ۔
حدیث شریف میں ہے :’’جس نے اسلام میں ایک اچھا طریقہ ایجاد کیا تو اس کے لیے اس کا اجر ہے اور جو اس پر عمل کریگا اس کااجر ایجاد کرنے والے کو بھی ملے گا۔‘‘(1)
اَلْـحَمْـدُ لـِلّٰـهِ عَزّ َوَجَلَّاذان سے قبل درود شریف پڑھنا بھی مسلما نو ں کے اندر رائج ہے اور اگر یہ کسی حدیث شریف سے ثابت نہ بھی ہو تب بھی کارِ ثواب ہے کہ دینِ اسلا م میں جس نے اچھا کام شروع کیا اللّٰہ تعالیٰ اسے نیک عمل کا ثواب عطافرمائے گا اور جتنے لو گ اس پر عمل کریں گے ان کے برابربھی اس شخص کو ثواب عطا کیا جائے گا ۔
سوال:کِن مواقع پر درود شریف پڑھنا مستحب ہے؟
جواب:حضرت علامہ سیّد ابنِ عابدین شامی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی عَلَيْهِدرود شریف پڑھنے کے مستحب مواقع بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’علماءِ کرام نے بعض مواقع پر درودِ پاک پڑھنے کے مستحب ہونے پر نص فرمائی ہے ان میں سے چند یہ ہیں:روزِ جمعہ اور شبِ جمعہ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… صحیح مسلم،کتاب الزکاة، باب الحث على الصدقة۔۔۔الخ ،ص۵۰۸،حدیث:۱۰۱۷