Brailvi Books

بنیادی عقائد اورمعمولاتِ اہلسنّت
105 - 132
کہ الٰہی عَزَّوَجَلَّ! اس قراءت پر مجھے اتناثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے نہ اُتنا جو میرے عمل کے قابل ہے اور اُسے میری طرف سے اس بندۂ خدامقبول کو نذر پہنچا پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اُس کے لئے دعاکرے اور صاحبِ مزار کی روح کو اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے ، پھر اُسی طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام ۔‘‘(1)
٭…٭…٭…٭…٭…٭
نذر ونیاز
سوال:منّت یا نذر کسے کہتے ہیں ؟
جواب:ہمارے ہاں منّت کے دو طریقے رائج ہیں:(۱)ایک منّتِ شرعی اور(۲) ایک منّتِ عُرفی ۔(۱) منّتِ شرعی یہ ہے کہ اللّٰہ کے لئے کوئی چیز اپنے ذِمّہ لازم کر لینا۔  اس کی کچھ شرائط ہوتی ہیں اگر وہ پائی جائیں تو منّت کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے اور پورانہ کرنے سے آدمی گناہگار ہوتا ہے ۔ اس گناہ کی نحوست سے اگر کوئی مصیبت آپڑے تو کچھ بعید نہیں۔ (۲)دوسری منّتِ عُرفی  وہ یہ کہ لوگ نذر مانتے ہیں اگر فلاں کام ہوجائے تو فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھائیں گے یا حاضری دیں گے یہ نذرِ عُرفی ہے اسے پورا کرنا واجب نہیں بہترہے ۔
سوال:کیا کسی نبی یا ولی کی نذرِ عُرفی مان سکتے ہیں؟
جواب:ازروئے شرع اللّٰہ تعالیٰ کے سوا کسی نبی  یا ولی کی نذرِ عُرفی ماننا جائز ہے اور امیر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… فتاوی رضویہ ، ۹/۵۲۲