سوال:مزارات پر جانے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟
جواب:مزارات و قبور کی زیارت کرنے سے دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی اور آخرت کی یاد آتی ہے۔حدیثِ پاک میں ہے:سیّدنا بریدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب زیارت کیا کرو ۔(1) ’’کیونکہ یہ دنیا میں بے رغبتی اور آخرت کی یاد پیدا کرتی ہے۔‘‘(2)
سوال:کیا مزار کابوسہ لے سکتے ہیں؟
جواب:زیارت کرنے والے کو مزار کابوسہ نہیں لینا چاہئے ،علماء کا ا س میں اختلاف ہے لہٰذا بچنا بہتر ہے اور اسی میں ادب زیادہ ہے۔(3)
سوال:مزار پر حاضری کا طریقہ کیا ہے؟
جواب: اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنّت مجدّدِدین وملّت مولاناشاہ احمد رضا خان عَـلَيْهِ رَحْمَةُ الـرَّحْمٰن مزارات پر حاضری کی تفصیل یوں ارشادفرماتے ہیں:’’مزارات شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم از کم چارہاتھ کے فاصلہ پر مُواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسّط آواز بادب سلام عرض کرے:اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا سَیّدِی وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗپھر درودِ غوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار ، آیۃُ الکرسی ایک بار ، سورۂ اخلاص سات بار ، پھر درودِ غوثیہ سات بار اور وقت فرصت دے تو سورۂ یٰسین اور سورۂ ملک بھی پڑھ کر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا کرے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…صحیح مسلم،کتاب الجنائز،باب استئذان النبی ربہ۔۔۔ الخ، ص۴۸۶،حدیث:۹۷۷
2… ابن ماجہ،کتاب الجنائز، باب ماجاء فی زیارة القبور،۲/۲۵۲،حدیث:۱۵۷۱
3… فتاوی رضویہ ،۲۲/۴۷۵