Brailvi Books

بیٹے کی رہائی
25 - 32
بیان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیش خدمت ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میں فیشن پرستی کی دلدادہ تھی، مذاق مسخری اور لغو گفتگو کرنا میری عادت بد تھی۔ میری زندگی کا رخ یوں بدلا کہ ایک بار ہمارے علاقے میں دعوت اسلامی کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان اجتماع ذکر ونعت کا انعقاد کیا گیا جس میں شیخ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے انتہائی پُر تاثیر سنتوں بھرا بیان فرمایا۔ چونکہ اس اجتماع میں اسلامی بہنوں کیلئے پردہ کا انتظام تھا، لہٰذا میں بھی اس سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوگئی، آپ َدامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کا سنتوں بھرا بیان بغور سننے کی سعادت حاصل کی ، جوں جوں غافل دلوں کو بیدار کرنے والا بیان سنتی گئی میرے دل کی کیفیت بدلتی گئی، کرم بالائے کرم یہ کہ اجتماع کے اختتام پر آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہوگئی، اس اجتماع میں شرکت کی برکت سے میں علاقے کی چند اسلامی بہنوں کے ہمراہ دعوت ِاسلامی کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوکر علمِ دین سے اپنا خالی دامن بھرنے کی سعادت پانے لگی، یوں دھیرے دھرے میرے اخلاق وکردار پر مدنی رنگ چڑھنے لگا۔ لہٰذا میں نے فضول گوئی،مذاق مسخری کی عادت سے جان چھڑائی اور سنجیدگی اختیار