Brailvi Books

بیٹے کی رہائی
23 - 32
 اور عذابات سے محفوظ رہیں ،نماز کے حوالے سے چند روایت پڑھیے۔ چنانچہ ،
	شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہیں قتل کر دیا اور جلا دیا جائے، اپنے والدین کی نافرمانی ہرگز نہ کرو اگرچہ وہ تمہیں تمہارے مال اور گھر والوں (یعنی اہل وعیال)سے دور ہو جانے کا حکم دیں ، جان بوجھ کر فرض نماز ہرگز نہ چھوڑو کیونکہ جو شخص جان بوجھ کر فرض نمازچھوڑتا ہے  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذمہ کرم اس سے اُٹھ جاتا ہے، شراب ہرگز نہ پیؤ کیونکہ شراب نوشی تمام بدکاریوں کی جڑ ہے، گناہ سے بچتے رہو کیونکہ گناہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی کو حلال کرتا ہے(یعنی اس کا سبب بنتا ہے )، میدان جہاد سے بھاگنے سے بچو اگرچہ لوگ ہلاک ہو جائیں اگرچہ لوگوں کو موت آگھیرے مگر تم ثابت قدم رہو، اپنی طاقت کے مطابق اپنے گھر والوں پر خرچ کرو، ادب سکھانے کے لئے ان سے اپنی لاٹھی دور نہ کرو اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے معاملے میں انہیں خوف دلاتے رہو۔‘‘(مجمع الزوائد ،کتاب الوصایا ، باب وصیۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلَّم ،۴/ ۳۹۱،حدیث:۷۱۱)
	دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:بنی اسرائیل کی ایک عورت نے حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام!میں نے