Brailvi Books

بیٹے کی رہائی
20 - 32
 تکالیف بھی بسااوقات بندے کے لیے باعث رحمت ہوتی ہیں ۔ چنانچہ، 
	حضرتِ سیدنا صہیب رومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورِ پاک،صاحبِ لَولاک،سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاکہ:مومن کے معاملے پرتعجب ہے کہ اس کا سارامعا ملہ بھلائی پرمشتمل ہے اور یہ صرف اُسی مومن کے لئے ہے جسے خو شحالی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتاہے کیونکہ اسکے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تنگدستی پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ۔(مسلم،کتاب الزھد والرقائق،باب المومن امرہ کلہ خیر،ص۱۵۹۸،حدیث:۲۹۹۹)
	حضرتِ سیدنا ابوہر یر ہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّجس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصیبت میں مبتلا فرمادیتا ہے ۔(بخاری،کتاب المرضی،با ب ماجاء کفارۃ المرض،۴/۴،حدیث:۵۶۴۵)
	حضرتِ سیدنا سعد بن ابو وقا ص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! سب سے زیادہ مصیبتیں کن لوگوں پر آئیں؟فرمایا:انبیا ء پر پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر انکے بعد جوبہتر ہیں ، بندے کو اپنی دینداری کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے