دل میری مُٹھی میں ہیں :
شَیْخِ طریقت ، امیْرِاہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ”جِنّات کابادشاہ “صفحہ5 پر تحریرکرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناعُمَربَزَّاررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ایک بارجمعۃُ المُبارک کے رو زمیں حُضُورِ غَوْثِ اَعْظَمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے ساتھ جامع مسجد کی طرف جا رہا تھا ، میرے دل میں خیال آیا کہ حیرت ہے !جب بھی میں مُرشِدکے ساتھ جمعہ کومسجدکی طرف آتاہوں توسلام ومُصافَحہ کرنے والوں کی بِھیْڑبَھاڑکے سبب گُزرنا مشکل ہوجاتاہے ، مگر آج کوئی نظر تک اُٹھا کر نہیں دیکھتا! میرے دل میں اِس خیال کا آناہی تھا کہ حُضُوْر غَوْثِ اَعْظَمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمیری طرف دیکھ کر مُسکرائے اور بس ، پھر کیا تھا!لوگ لپک لپک کرمُصافَحہ کرنے کے لئے آنے لگے یہاں تک کہ میرے اورمُرشِدِ کریم کے درمیان ایک ہُجُوم حائِل ہوگیا ۔ میرے دل میں آیا کہ اِس سے تووُہی حالت بہتر تھی ۔ دل میں یہ خیال آتے ہی آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا : اے عُمَر!تم ہی تو ہُجُوم کے طَلبگار تھے ، تم جانتے نہیں کہ لوگوں کے دل میری مُٹّھی میں ہیں ، اگر چاہوں تو اپنی طرف مائل کر لوں اورچاہوں تو دُور کردوں ۔ (1)
کُنْجِیَاں دِل کی خُدا نے تجھے دِیں ایسی کر کہ یہ سینہ ہو مَحبَّت کا خَزینہ تیرا(2)
شعر کی وضاحت : اے میرے غوثِ اعظم!رَبُّ الْعالَمِینجَلَّ جَلَالُہٗنے دِلوں کی چابیاں آپ کو عنایت فرما دی ہیں ، تو اب مہربانی فرمائیے ناں!کہ میرے سِینے کو اپنی محبت کا
________________________________
1 - بھجة الاسرار ، ذکر فصول من کلامہ الخ ، ص۱۴۹
2 - حدائق بخشش ، ص۳۱