Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
451 - 541
اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًاؕ-وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠(۲۶۰) ( پ۳ ، البقرة : ۲۶۰) 
فرمایاتواچھاچارپرندے لے کراپنے ساتھ ہِلالے پھر ان کاایک ایک ٹکڑاہرپہاڑپررکھ دے پھرانہیں بُلاوہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے اور جان رکھ کہ اللہغالب حکمت والاہے ۔  
	آیتِ مُبارکہ نقل کرنے کے بعدعلامہ عبدالمصطفٰے اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اِس سے یہ مسئلہ ثابت ہوگیاکہ مُردوں کوپُکارناشرک نہیں ہے کیونکہ جب مُردہ پرندوں کواللہتعالیٰ نے پُکارنے کا حکم فرمایا اور ایک جلیْلُ القَدْر پیغمبر نے ان مُردوں کو پُکارا تو ہرگز ہرگزیہ شرک نہیں ہوسکتاکیونکہ خداوندِکریمعَزَّ  وَجَلَّکبھی بھی کسی کوشرک کاحکم نہیں دے گا ، نہ کوئی نبی ہرگزہرگزکبھی شرک کا کام کرسکتاہے ۔ توجب مرے ہوئے پرندوں کو پُکارنا شرک نہیں تو وفات پائے ہوئے خُدا کے ولیوں اورشہیدوں کا پُکارنا کیونکر شرک ہوسکتا ہے ، لہٰذا جو لوگ ولیوں اور شہیدوں کے پُکارنے کو شرک کہتے ہیں اوریاغوث کا نعرہ لگانے والوں کو مُشرک کہتے ہیں اُنہیں تھوڑی دیرسر جُھکاکرسوچنا چاہئے ، کیاخبرکہ اِس قرآنی واقعہ کی روشنی میں اُنہیں ہدایت کانُورنظرآجائے اوروہ اہْلِ سنّت کے طریقے پرصِراطِ مُسْتَقِیْمکی شاہراہ پر چل پڑیں ۔ (1) 
	اُمّیدہے کہ شیطان کاڈالاہواوَسْوَسہ جَڑسے کَٹ گیاہوگا کیونکہ مسلمان کا قُرآنِ کریم پرایمان ہوتا ہے اور وہ قرآنِ کریم کے خِلاف کوئی دلیل تسلیم کرتاہی نہیں ۔  
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد



________________________________
1 -   عجائب القرآن ، ص۵۷ملتقطا