کے وقْت دستگیری کے لئے غوثِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوکیسے پُکاراجاسکتاہے ، وہ تو وفات پا چکے ہیں اورذہن میں یہ وسوسہ آئے کہ ”مُردوں کو پُکارناتوشِرْک ہے “تویادرکھئے کہ مُردوں کوپُکارناشِرْک نہیں ، آئیے !اِس ضمن میں ایک قرآنی واقعہ اوراُس کے تحتشَیْخُ الْحَدِیْث حضرت مُفتی عبْدُالمصطفٰی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بیان کردہ مدنی پُھول سُنتے ہیں ، اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّاِس وسوسے کا جڑ سے خاتمہ ہوجائے گا ۔ چُنانچہ
حضرت مُفتی صاحب لکھتے ہیں : حضرت سیِّدُنا اِبراہیمخَلِیْلُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ایک مرتبہ خُداوندِ قُدُّوسعَزَّ وَجَلَّکے دربارمیں یہ عرض کِیاکہ یَااَللہ!تُومجھے دکھادے کہ تُو مُردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے اِبراہیم! کیا اِس پر تمہارا ایمان نہیں ہے ، توآپ عَلَیْہِ السَّلَامنے عرض کِیاکہ کیوں نہیں؟ میں اِس پر ایمان تورکھتاہوں لیکن میری تمنّایہ ہے کہ اِس منظرکواپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تاکہ میرے دل کوقرارآجائے ، تواللہتعالیٰ نے فرمایاکہ تم چارپرندوں کوپالواوراُن کوخُوب کھِلاپِلاکراچھی طرح اپنے ساتھ مانُوس کر لو ، پھر تم اُنہیں ذَبح کر کے اُن کا قیمہ بنا کر اپنے گِردو نَواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو ۔ پھر اُن پرندوں کو پُکاروتووہ پرندے زندہ ہو کردوڑتے ہوئے تمہارے پاس آجائیں گے اور تم مُردوں کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے ۔ اِس پورے واقعے کو قرآنِ کریم میں اِن اَلفاظ کے ساتھ بیان کِیا گیا ہے :
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰىؕ-قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْؕ-قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَىٕنَّ قَلْبِیْؕ-قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ
ترجمۂ کنز الایمان : اورجب عرض کی ابراہیم نے اے رب میرے مجھے دکھادے تُوکیونکر مردے جِلائے گافرمایاکیاتجھے یقین نہیں عرض کی یقین کیوں مگریہ چاہتاہوں کہ میرے دل کوقرارآجائے