آئی اور وہ ایسا تندُرُسْت ہوگیا گویا کسی بیماری میں مبُتلا ہی نہ تھا ۔
شیخ ابُوالحسن قُرَشِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں : جب میں نے حضرت شیخ ابُوسَعْدقَیْلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حضورغوثِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی یہ کرامت بیان کی تواُنہوں نے فرمایا : حضرت سیِّدُناشیخ عبْدُالقادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمادَرزاداندھوں اور بَرْص کے مریضوں کواچھاکرتے اوراللہعَزَّ وَجَلَّکے حکم سے مُردے زندہ کرتے ہیں ۔ (1)
لاعلاج مریضوں کا علاج :
حضرت شیخ خِضْرمَوْصِلیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میں حُضُورغوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکی خدمتِ اقدس میں تقریباً13سال رہا ، اِس دوران میں نے آپ کی بہت سی کرامات کودیکھا ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس مریض کو طبیب لاعلاج قرار دے دیتے تھے وہ آپ کے پاس آکرشِفایاب ہوجاتا ، آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاُس کے لئے دُعائے صِحَّت فرماتے اوراُس کے جسم پراپناہاتھ مُبارک پھیرتے تواللہعَزَّ وَجَلَّاُسی وقْت اُس مریض کوصِحَّت عطا فرمادیتا ۔ (2)
بادلوں پربھی حکمرانی :
حضرت سیِّدُناشیخ عبْدُالقادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہایک دن( اپنے مدرسے میں) بیان فرمارہے تھے کہ بارش بَرَسناشروع ہوگئی ، بعض اہْلِ مجلس اِدھراُدھرہونے لگے توآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آسمان کی طرف سراُٹھایااور( بادل کی طرف مُتوجّہ ہوکر) فرمایا : اَنَااَجْمَعُ وَ اَنْتَ
________________________________
1 - بھجةالاسرار ، ذکرفصول من کلامہ الخ ، ص۱۲۳
2 - بھجةالاسرار ، ذکرفصول من کلامہ الخ ، ص۱۴۷