Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
447 - 541
 ہَیتیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُناشیخ مُحِیُّ الدِّین عبْدُالقادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں اُن کے مدرسے میں موجودتھے کہ آپ کی بارگاہ میں ابُوغالبفضلُاللہنامی ایک مشہورتاجِرحاضرہوااورعرض کی : اے میرے سردار!آپ کے ناناجان ، رحمَتِ عالمیانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ ذیشان ہے کہ”جس شخص کودعوت میں بُلایاجائے اُسے دعوت قبول کرنی چاہئے ۔ “میں اِس لئے حاضرہواہوں کہ آپ میرے گھردعوت پرتشریف لائیں ۔  آپ نے فرمایا : اگرمجھے اِجازت ملی تومیں آؤں گا ۔ پھرآپ نے کچھ دیر مُراقَبہ کرنے کے بعدفرمایا : ہاں آؤں گا ۔ چُنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہاپنے خَچّرپرسُوار ہوئے ، شیخ علیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خَچّر کی دائیں رِکاب پکڑی اور میں نے بائیں رِکاب تھامی اور اُس کے گھر کی طرف چل دئیے ، جب ہم وہاں پہنچے تودیکھاکہ بغدادکے مشائخ وعُلما اور مُعَززِیْن پہلے ہی وہاں موجود ہیں ، پھردسترخوان بچھایاگیااوراُس پراَنْواع واَقْسام کے کھانے چُن دئیے گئے ، دوآدمی ایک بڑاصندوق بھی اُٹھاکرلائے جوبندتھا ، اُسے دسترخوان کے ایک طرف رکھ دِیا گیا ۔ 
	میزبان ابُو غالب  نے کہا : شروع کیجئے  ۔ مگر اُس وقْت حضورغوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمُراقبے میں تھے ، لہٰذا آپ نے کھانا شروع نہ  کِیا اور نہ ہی کسی کو کھانے کی اِجازت ملی لہٰذاکسی نے بھی کھانا شروع نہ کِیا ۔ آپ کی ہَیْبَت کے سبب حاضریْنِ مجلس کی حالت ایسی تھی کہ گویا اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ، پھر آپ نے میری اور شیخ علی بن ہیتی کی طرف اشارہ کِیا کہ وہ صندوق اُٹھاکرلاؤاوراسے کھولو ۔ جب صندوق آپ کے سامنے لاکر کھولا گیا تو اُس میں ابُو غالب کا لڑکاتھا ، جو پیدائشی اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ جوڑوں کے دَرْد ، کوڑھ اورفالج کے مرض میں بھی مبُتلا تھا ، آپ نے اُس سے کہا : قُمْ بِاِذْنِ اللہِیعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے حکم سے کھڑا ہو جا ۔ یہ کہنے کی دیرتھی کہ لڑکااٹھ کردوڑنے لگا ، اُس کی بینائی لوٹ