نے مُسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور اپنے عَصا کو زمین میں گاڑدِیا ، اچانک اُس عَصا سے ایسا نُور نکل کر آسمان تک جا پہنچا جس سے فضا روشن ہوگئی اوروہ نُور بہت دیر تک روشن رہا پھر آپ نے عَصا کو زمین سے نکال لِیا تو وہ جیساتھا ویسا ہی ہوگیا ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : بس اے ذَیّال!تم یہی چاہتے تھے نا؟(1)
دسْتِ مُبارک کی کرامت :
ایک مرتبہ رات کوحضرت شیخ احمدرِفاعی اورحضرت عَدِی بن مُسافررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاسرکارِبغدادحُضُورِ غوث پاکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ساتھ حضرت سیِّدُنا اِمام احمدبن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مَزارِپُرانوارکی زیارت کے لئے تشریف لے گئے ، اُس وقْت اندھیرابہت زیادہ تھا ، حُضُورغوثِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُن کے آگے آگے تھے ، آپ جب کسی پتھر ، لکڑی ، دیواریاقبرکے پاس سے گُزرتے تواپنے ہاتھ مُبارک سے اِشارہ فرماتے تووہ چاند کی طرح روشن ہوجاتا ، سارے راستے آپ اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ یہ حضرات آپ کے مُبارک ہاتھ کی روشنی کے ذریعے حضرت سیِّدُنا اِمام احمدبن حنبلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مَزار مُبارک تک پہنچ گئے ۔ (2)
مصطفیٰ کے تَنِ بے سایہ کا سایہ دیکھا جس نے دیکھا مری جاں جلوہ زیبا تیرا(3)
اندھوں کوبینااورمُردوں کوزندہ کرنا :
حضرت شیخ ابُوالحسن قُرَشِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میں اورشیخ ابُوالحسن علی بن
________________________________
1 - بھجةالاسرار ، ذکرفصول من کلامہ الخ ، ص۱۵۰
2 - قلائدالجواھر ، ص۷۷
3 - حدائق بخشش ، ص۱۹