بولنے اوروعدہ خِلافی کرنے سے باز نہیں آتے ، پھر یہی جراثِیْم اُن کی اولاد میں بھی مُنْتَقِل ہوجاتے ہیں ، بسااوقات مَذہَبی ذہن رکھنے والوں کوبھی شیطان جُھوٹ اورعہد شِکنی کی آفت میں مبُتلاکردیتاہے ۔ یادرکھئے !احادیثِ مُبارکہ میں جُھوٹ بولنے اوروعدہ خِلافی کرنے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ۔ آئیے بطورِعبرت دو فرامیْنِ مُصْطَفٰے سنتے ہیں :
(1)…سچّائی کولازم کرلوکہ سچّائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنّت کا راستہ دِکھاتی ہے ۔ آدمی برابر سچ بولتارہتاہے اورسچ بولنے کی کوشش کرتارہتاہے یہاں تک کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک صِدِّیْق لکھ دِیا جاتا ہے اور جُھوٹ سے بچوکہ جُھوٹ گُناہ کی طرف لے جاتاہے اور گُناہ جہنّم کا راستہ دکھاتاہے ۔ آدمی برابرجُھوٹ بولتا رہتا ہے اور جُھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہعَزَّ وَجَلَّکے نزدیک بہت جُھوٹا لکھ دِیا جاتا ہے ۔ (1)
(2)…جو کسی مسلمان سے وعدہ خِلافی کرے اُس پراللہتعالیٰ ، فِرِشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ، اُس کا کوئی نَفْل قبول ہو گا نہ ہی فَرْض ۔ (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عَصامُبارک روشن ہوگیا :
حضرت سیِّدُناعبْدُالمَلِک ذَیّالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں غوثِ پاک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مدرسے میں کھڑا تھا ، آپ دسْتِ مُبارک میں ایک عَصالئے ہوئے گھر سے باہرتشریف لائے ، میرے دل میں خیال آیاکہ کاش!غوثِ پاکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاپنے اِس عَصا کے ذریعے مجھے کوئی کرامت دکھائیں ۔ میرے دل میں اِس خیال کا آنا ہی تھا کہ آپ
________________________________
1 - مسلم ، کتاب البر و الصلة ، باب قبح الکذب و حسن الصدق وفضلہ ، ص۱۰۷۸ ، حدیث : ۶۶۳۹
2 - بخاری ، کتاب الجزیة والموادعة ، باب اثم من عاهد ثم غدر ، ۲ / ۳۷۰ ، حدیث : ۳۱۷۹