درازعلاقوں کاسَفَراِخْتِیارفرمایا ، آپ کی پوری زندگیاللہعَزَّ وَجَلَّاوراس کے مَدَنی حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت ، والدین کی فرمانبرداری ، سچّائی اوروفا شِعاری جیسی بہت سی قابلِ تعریف خُوبیوں سے مُزَیَّن رہی ، اللہعَزَّ وَجَلَّاوراُس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین پرعمل کے معاملے میں آپ کی اِسْتِقامتپہاڑسے زیادہ مضبوط تھی ، آپ کے اِنہی دلکش کمالات سے مُتَأثِّرہوکرسینکڑوں کُفّارآپ کے دَسْتِ حق پرسْت پر کلمہ پڑھ کردائرۂ اسلام میں داخل ہوئے اوربہت سے بدکار اپنی گُناہوں بھری زندگیوں سے تائب ہوئے ۔ چُنانچہ آپ خُوداپنے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں کہ میرے ہاتھ پر500سے زائد غیرمسلموں نے اسلام قبول کِیااورایک لاکھ سے زیادہ ڈاکو ، چور ، فُسّاق وفُجّار ، فسادی اور بدمذہب لوگوں نے توبہ کی ۔ (1)
آئیے !راہِ علم کے دوران محبوبِ سُبحانی ، قندیْلِ نُورانی ، شیخ عبْدُالقادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی نگاہِ ولایت سے ڈاکوؤں کی تقدیربدلنے والا ایک عظیمُ الشّان واقعہ سُنتے ہیں ۔ چُنانچہ
60ڈاکوتائب ہوگئے :
سرکارِبغدادحُضُورِغَوثِ پاکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : میں عِلمِ دین حاصل کرنے کے لئے قافلے کے ہمراہ جِیلان سے بغدادروانہ ہوا ، جب ہم ہمدان سے آگے پہنچے تو60 ڈاکوقافلے پر ٹُوٹ پڑے اورسارا قافلہ لُوٹ لِیا ، لیکن کسی نے مجھ سے زورزبردستی نہ کی ، ایک ڈاکومیرے پاس آکرپوچھنے لگا : اے لڑکے !تمہارے پاس بھی کچھ ہے ؟میں نے جواب میں کہا : ہاں ۔ ڈاکونے کہا : کیاہے ؟میں نے کہا : 40دِینار( سونے کے سکے ) ۔ اس نے پُوچھا : کہاں ہیں؟
________________________________
1 - بھجةالاسرار ، ذکروعظہ ، ص۱۸۴