آپ کا حُلیہ مُبارک :
حضرت سیِّدُناشیخ ابُومحمدعبْدُاللہبن احمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ قُطبِ رَبّانی ، غوثِ صَمَدانی ، شیخ عبْدُالقادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہضَعِیْفُ البَدَن ، مِیانے قد ، کُشادہ سینے ، چَوڑی داڑھی ، دراز( یعنی لمبی) گردن ، گندمی رنگت ، ملی ہوئی بھنوؤں ، سیاہ آنکھوں ، بلندآواز اور بہت ہی علم و فضل والے تھے ۔ (1)
قدِ بے سایہ ظِلِّ کبریا ہے تُو اس بے سایہ ظِلّ کا ظِلّ ہے یا غوث(2)
علم دین کا شوق :
حضرت سیِّدُناشَیْخ عَبْدُالْقادِرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے عِلْمِ دِین حاصِل کرنے کا انداز بڑانِرالا تھا ، آپ کے شوقِ عِلْمِ دِین کا اندازہ اِس بات سے لگایئے کہ آپ فرماتے ہیں : میں اپنے طالِبِ عِلْمی کے زمانے میں اَسَاتِذہ سے سبق لے کر جنگل کی طرف نکل جایا کرتا تھا ، پھر دن ہویارات ، آندھی ہویامُوسْلادھاربارش ، گرمی ہویاسردی بَیابانوں اوروِیرانوں میں اپنا مُطالَعہ جاری رکھتاتھا ، اُس وقْت میں اپنے سرپرایک چھوٹاساعِمامہ باندھتااورمعمولی تَرکاریاں کھا کراپنی بھوک مٹاتاتھا ، کبھی کبھی یہ تَرکاریاں بھی ہاتھ نہ آتیں کیونکہ بُھوک کے مارے دوسرے فُقَرَابھی اُدھر کا رُخ کر لِیا کرتے تھے ، ایسے موقع پر مجھے شَرْم آتی تھی کہ میں دَرْویشوں کی حق تَلَفی کروں ، مجبوراً وہاں سے چلاجاتااوراپنامُطَالَعہ جاری رکھتا ، پھرنیندآتی تو خالی پیٹ ہی کنکریوں سے بھری زمین پرسوجاتا ۔ (3) میں زمانے کی جِن سختیوں سے دوچار
________________________________
1 - بھجة الاسرار ، ذکرنسبه وصفته ، ص۱۷۴
2 - حدائق بخشش ، ص۲۵۱
3 - قلائد الجواھر ، ص۱۰