Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
441 - 541
آپ کا حُلیہ مُبارک : 
	حضرت سیِّدُناشیخ ابُومحمدعبْدُاللہبن احمدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ قُطبِ رَبّانی ، غوثِ صَمَدانی ، شیخ عبْدُالقادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہضَعِیْفُ البَدَن ، مِیانے قد ، کُشادہ سینے ، چَوڑی داڑھی ، دراز( یعنی لمبی) گردن ، گندمی رنگت ، ملی ہوئی بھنوؤں ، سیاہ آنکھوں ، بلندآواز اور بہت ہی علم و فضل والے تھے ۔ (1) 
قدِ بے سایہ  ظِلِّ کبریا ہے 		تُو اس بے سایہ ظِلّ کا ظِلّ ہے یا غوث(2)
علم دین کا شوق : 
	حضرت سیِّدُناشَیْخ عَبْدُالْقادِرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے عِلْمِ دِین  حاصِل کرنے کا انداز بڑانِرالا تھا ، آپ کے شوقِ عِلْمِ دِین  کا اندازہ اِس بات سے لگایئے کہ آپ فرماتے ہیں : میں اپنے طالِبِ عِلْمی کے زمانے میں اَسَاتِذہ سے سبق لے کر جنگل کی طرف نکل جایا کرتا تھا ، پھر دن ہویارات ، آندھی ہویامُوسْلادھاربارش ، گرمی ہویاسردی بَیابانوں اوروِیرانوں میں اپنا مُطالَعہ جاری رکھتاتھا ، اُس وقْت میں اپنے سرپرایک چھوٹاساعِمامہ باندھتااورمعمولی تَرکاریاں کھا کراپنی بھوک مٹاتاتھا ، کبھی کبھی یہ تَرکاریاں بھی ہاتھ نہ آتیں کیونکہ بُھوک کے مارے دوسرے فُقَرَابھی اُدھر کا رُخ کر لِیا کرتے تھے ، ایسے موقع پر مجھے شَرْم آتی تھی کہ میں دَرْویشوں کی حق تَلَفی کروں ، مجبوراً وہاں سے چلاجاتااوراپنامُطَالَعہ جاری رکھتا ، پھرنیندآتی تو خالی پیٹ ہی کنکریوں سے بھری زمین پرسوجاتا ۔ (3) میں زمانے کی جِن سختیوں سے دوچار



________________________________
1 -    بھجة الاسرار ، ذکرنسبه  وصفته ، ص۱۷۴
2 -    حدائق بخشش ، ص۲۵۱
3 -    قلائد الجواھر ، ص۱۰