ہیں ۔ اسی قسم کی چیزیں اگر انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اعلانِ نبوّت کرنے سے پہلے ظاہر ہوں تو اِرْہاص اوراعلانِ نبوّت کے بعد ہوں تو معجزہ کہلاتی ہیں اوراگر عام مؤمنین سے اس قسم کی چیزوں کا ظُہُور ہوتو اُس کو مَعُوْنَت کہتے ہیں اورکسی کافر سے کبھی اُس کی خواہش کے مُطابق اِس قِسَم کی چیز ظاہر ہوجائے تو اُس کو اِسْتِدراج کہا جاتا ہے ۔ (1)
صَدْرُالشَّرِیْعَہ ، بَدْرُالطَّرِیْقَہحضرت علّامہ مولانامُفتی محمدامجدعلی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ کرامتِ اَوْلِیاء حق ہے ، اِس کا مُنکِر گمراہ ہے ۔ (2) کرامت کی بہت سی قسمیں ہیں مثلاًمُردوں کوزندہ کرنا ، اندھوں اورکوڑھیوں کوشِفادینا ، لمبی مسافتوں کولمحوں میں طے کر لینا ، پانی پرچلنا ، ہواؤں میں اُڑنا ، دل کی بات جان لینا اوردُورکی چیزوں کو دیکھ لینا وغیرہ وغیرہ ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
خاندانی پس منظر :
آئیے !اب حضرت سیِّدُنا شیخ عبْدُ القادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے خاندانی پس منظر کامختصر تذکرہ اور آپ کی شان و عظمت کے واقعات اور کرامات سُنتے ہیں تاکہ ہمارے دِلوں میں اَولِیاءُ اللہرَحِمَہُمُ اللہُکی مزید عقیدت ، محبت اور عظمت پیدا ہو ۔
غوثِ پاک کا نام و نسب :
حضرت سیِّدُناغَوْثِ اعْظَم شیخ عبْدُالقادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ولادتِ باسَعادَت یَکُم رَمَضان470ہجری میں جمعۃُ المُبارک کو جِیلان میں ہوئی ۔ آپ کا نامِ نامی ، اسْمِ گرامی
________________________________
1 - النبراس ، اقسام الخوارق سبعة ، ص۲۷۲
2 - بہارِ شریعت ، حصہ ۱ ، ۱ / ۲۶۹