Brailvi Books

بیاناتِ دعوتِ اسلامی
437 - 541
موتیوں کی لڑی :
	خاتَمُ الْمُحَدِّثِیْنحضرت سیِّدُناشیخ عبْدُ الحق مُحَدِّث دہلویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : مشائِخِ اَوْلِیامیں سے کوئی بھی کرامات کے لحاظ سے آپ کاہم پَلّہ نہیں ، یہاں تک کہ بعض مشائخ نے فرمایاکہ آپ کی کرامات کاحال توموتیوں کی لڑی جیساہے کہ جب ٹُوٹتی ہے تو ایک کے بعدایک موتی گِرتاچلا جاتاہے نیزآپ کی کرامات گنتی و شُمار سے باہر ہیں ۔ (1) 
موذی جانوروں سے حفاظت : 
	آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی ذاتِ بابرکت توکرامات وکمالات کامَنْبَعہے ہی ، صرف آپ کے مُبارک نام کی یہ برکت ہے کہ جہاں پُکارا جائے مُوْذِی جانوروں سے چھٹکارا مل جاتا ہے ۔ چُنانچہ
	منقول ہے کہ شیرکسی شخص کے سامنے آجائے اوروہ حُضُورغوثِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کانام لے توشیر اُس پر حملہ آوَر نہیں ہوگا ۔ (2) 
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کرامت کی تعریف اور اس کا حکم :
	دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مَکْتَبَۃُ الْمَدِیْنَہکی مطبوعہ342 صفحات پر مشتمل کتاب ”کراماتِ صحابہ“کے صفحہ36 پر ہے کہ مومن مُتّقی سے اگر کوئی ایسی نادِرُالوُجُوداور تَعَجُّب خیز چیز صادِر وظاہر ہوجائے جو عام طور پر عادتاً نہیں ہواکرتی تو اس کو کرامت کہتے



________________________________
1 -    اشعة اللمعات ، کتاب الفتن ، باب الکرامات ، ۴ / ۶۱۰
2 -    نزهة الخاطر ، ص۲۵ بتغیر قلیل