یہ کوئی ناقابلِ تسلیم بات نہیں نیزاللہعَزَّ وَجَلَّکی عطا سے کسی اور کو ہم مُردہ زندہ کرنے والا تسلیم کریں تواِس سے ہمارے ایمان پرکوئی اَثَرنہیں پڑتا ، اگرشیطان کی باتوں میں آکر کسی نے اپنے ذہن میں یہ بٹھالِیاہے کہاللہعَزَّ وَجَلَّنے کسی اورکومُردہ زِندہ کرنے کی طاقت ہی نہیں دی تواُس کایہ نظریہ حُکمِ قرآنی کے خِلاف ہے ۔ جیساکہپارہ3 ، سُوْرَۃُ اٰلِ عمرٰن ، آیت نمبر49میں حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُاللّٰہعَلَیْہِ السَّلَام کا یہ قول موجود ہے :
وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ- ( پ۳ ، اٰل عمرٰن : ۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اورمیں شِفادیتاہوں مادَرزاد اندھے اورسپید( سفید) داغ والے کواورمیں مردے جِلاتا( زندہ کرتا) ہوں اللہکے حکم سے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آیتِ مُبارکہ سے واضح طور پر پتا چلتا ہے کہ حضرت سیِّدُناعیسیٰ رُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَامنے مُردے زندہ کرنے کی بات اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ارشادفرمایاکہ”میں مُردے زندہ کرتاہوں“مگرساتھ ہی ساتھ یہ بھی فرمادِیا کہ ”اللہکے حُکم سے “ یعنی میرا مُردوں کو زندہ کرنے والا معجزہاللہعَزَّ وَجَلَّکے حکم اور اُس کی عطاسے ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!طَبقۂ اَوْلِیامیں سے مَحبوبِ سُبحانی ، غَوْثِ صَمَدانی ، قندیْلِ نُورانی ، شہبازِلامکانی ، شیخ عبْدُالقادرجِیلانیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ، اللہعَزَّ وَجَلَّکے وہ مُقَرَّب ترین ولی ہیں جوتمام اَوْلِیاکے سردارہیں اوراُن کی شَخْصِیت عوام وخواص سبھی کے لئے لائِقِ عقیدت واحترام ہے ، آپ نہ صرف کَثِیْرُالکرامات بُزرگ ہیں بلکہاللہعَزَّ وَجَلَّنے آپ کودیگر اَوْلِیائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے بڑھ کرکرامات واِنْعامات سے نوازا ہے ۔ چُنانچہ