تودیکھاکہ آپ کے سامنے ایک برتن میں مُرغی کی ہڈّیاں رکھی ہیں جسے آپ نے تناوُل فرمایا تھا ، عرض کی : یَاغوثِ اَعظم!آپ خُودتومُرغی کھائیں اورمیرابچّہ جوکی روٹی ۔ یہ سُن کرغوثِ پاکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنادَسْتِ اَقْدَس ان ہڈّیوں پررکھااورفرمایا : قُوْمِیْ بِاِذْنِ اللہِ الَّذِیْ یُحْیِی الْعِظَامَ وَ ھِیَ رَمِیْمیعنی زندہ ہوجااُساللہعَزَّ وَجَلَّکے حکم سے جوبوسیدہ ہڈّیوں کوزندہ فرمائے گا ۔ یہ فرماناتھاکہ مُرغی فورا ًزندہ صحیح سالِم کھڑی ہوکرآوازنکالنے لگی ، غوثِ پاکرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : جب تیرا بیٹا اِس درجہ تک پہنچ جائے گاتو جو چاہے گا کھائے گا ۔ (1)
وہ کہہ کر قُم بِاِذنِ اللہ جِلا دیتے ہیں مُردوں کو
بہت مشہور ہے احیائے مَوتیٰ غوثِ اعظم کا
جِلایا استخوانِ مرغ کو دَسْتِ کرم رکھ کر
بیاں کیا ہو سکے احیائے مَوتیٰ غوثِ اعظم کا (2)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بحکم الٰہی مردے زندہ کرنا :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بارگاہِ ربُّ الانامعَزَّ وَجَلَّمیں ہمارے غوثِ اَعْظَمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکامقام کس قَدَربلندوبالاہے کہ جب آپ نے کسی مُردہ مُرغی کواللہعَزَّ وَجَلَّکے حُکْم سے زندہ ہونے کاحکم فرمایاتواُس میں جان آگئی اوروہ پہلے کی طرح زندہ ہوگئی ۔ یادرکھئے ! بِلاشُبہ مَوت وحَیاتاللہعَزَّ وَجَلَّکے اِختیارمیں ہے لیکناللہعَزَّ وَجَلَّاگراپنی خُصُوصی نوازِشات سے اپنے کسی مُقَرَّب نبی یابرگُزیدہ ولی کومُردے جِلانے ( یعنی زِندہ کرنے ) کی طاقت بخشے تو
________________________________
1 - بھجةالاسرار ، ذکرفصول من کلامہ الخ ، ص۱۲۸
2 - قبالَۂ بخشش ، ص۵۳